منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی ویزا لاٹری سسٹم برقرار رہے گا یا ختم ہوجائے گا؟ٹرمپ نے بڑا اعلان کردیا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) نیو یارک میں کیے گئے اور آٹھ افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے تازہ ترین دہشت گردانہ حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ امریکی ویزا لاٹری سسٹم کی مخالفت کر دی ہے۔ اس حملے میں ملوث ملزم اسی لاٹری ویزے پر امریکا آیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں مروجہ اس ویزا لاٹری سسٹم پر شدید تنقید کی ہے، جس کے تحت اس ملک کی آبادی میں زیادہ سے زیادہ تنوع

اور نسلی کثیرالجہتی کے لیے ہر سال ہزارہا غیر ملکیوں کو امریکا میں آباد ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔تارکین وطن کی آمد سے متعلق اس امریکی نظام کو عرف عام میں ویزا لاٹری سسٹم اور قانونی طور پر ’سماجی تنوع کے لیے ویزا لاٹری پروگرام‘ کہا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا کو نیو یارک شہر میں ایک نئے دہشت گردانہ حملے کی صورت میں جن ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کا سبب بننے والا ملزم اسی لاٹری پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس ویزا پروگرام کی اس کی موجودہ شکل میں مخالفت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پروگرام کا محور لاٹری یا قرعہ اندازی کے بجائے میرٹ اور درخواست دہندگان کی قابلیت کو بنایا جانا چاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں تارکین وطن کے طور پر آنے والے غیر ملکیوں کے لیے اس پروگرام کو میرٹ کی بنیاد پر استوار کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی موجودہ شکل کے ذمے دار امریکی ڈیموکریٹس ہیں۔ ٹرمپ کا اپنا تعلق امریکی ریبپلکن پارٹی سے ہے۔ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھاکہ یہ دہشت گرد ہمارے ملک میں اسی ویزا لاٹری پروگرام کے تحت آیا تھا۔ چک شومر کا دیا ہوا خوبصورت تحفہ۔ میں میرٹ چاہتا ہوں۔ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں چک شومر نامی جس سینیٹر کا حوالہ دیا، وہ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان پر مشتمل حزب کے سربراہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…