اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

جرمن سیکورٹی ایجنسز کا پناہ گزینوں کو جسم فروشی پر اکسانے کا لرزہ خیز سکینڈل منظر عام پرآ گیا، سکینڈل نے جرمن حکومت کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

برلن ( مانیٹرنگ ڈیسک )جرمن سیکورٹی ایجنسز کا لرزہ خیز سکینڈل منظر عام پر آگیا، جرمن سیکیورٹی کمپنیاں پناہ گزینوں کو جسم فروشی پر اکسانے لگیں، اسکینڈل نے جرمن حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیاہے۔ جرمن ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ پناہ گزینوں کی نگرانی کے لیے قائم سیکیورٹی کمپنیاں پناہ گزینوں بالخصوص کم عمر افراد کو جسم فروشی کے مکروہ دھندے پر مجبور کرتی ہیں۔اس چونکا دینے والے انکشاف نے جرمن حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

جرمنی کے جنرل ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے ترجمان اسٹیفن زابیرٹ نے بدھ کو پناہ گزینوں کو جسم فروشی جیسے مکروہ دھندے پر مجبور کرنے والی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ خبریں درست ہیں تو ہم ان واقعات کی باریک بینی سے تحقیقات کرائیں گے۔یہ بات قطعا ناقابل قبول ہے کہ کوئی کمپنی یا ادارہ پناہ گزینوں کی ابتر معاشی حالات کو اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ترجمان نے کہا کہ جو شخص بھی جسم فروشی جیسے شرمناک دھندے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت اس طرح کے اخلاقی جرائم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے سختی سینمٹا جائے گا۔رپورٹ میں ایک سیکیورٹی اہلکار جس کا چہرہ چھپا دیا گیا کو پناہ گزینوں سے یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ’مجھے ایک عورت چاہیے یا کوئی نوجوان لڑکا، بہتر ہے کہ لڑکا کم عمر ہو۔لڑکا یا لڑکی جتنے کم عمر ہوں گے اتنی ان کی قیمت زیادہ ہوگی۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی خواہش ہے۔ایک دوسرے سیکیورٹی اہلکار نیا نکشاف کیا کہ برلن کی بعض کمپنیاں جسم فروشی کرنے والے پناہ گزینوں اور گاہکوں کے درمیان ڈیل کراتی ہیں اورلین دین یورو کرنسی میں کیا جاتا ہے۔پناہ گزین کیمپ کے ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ بہت سے پناہ گزین جسم فروشی کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے پاس پیسہ نہیں اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس مکروہ دھندے پر سوچتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کم افراد ہیں جن کی عمریں سولہ سال سے کم ہیں۔ ان کے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں۔ایک سوال کے جواب میں خاتون سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ جسم فروشی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جگہ کی تنگی، جنسی تسکین کی خواہش، خراب سماجی حالات، منشیات کا استعمال، اپنے خاندان کو پیسوں کی فراہمی اہم اسباب ہیں۔ جسم فروشی کرنے والے افراد کی عمریں 12 سے 40 سال کی عمر کے درمیان ہوتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…