جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

یورپ اور امریکا میں اُڑنے والے حشرات کی تعداد میں اچانک 76فیصدکمی ،کیا ہونیوالا ہے؟چونکا دینے والے انکشافات، خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی میں اڑنے والے حشرات کی تعداد میں کمی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، یورپ اور شمالی امریکا میں تتلیاں اور شہد کی مکھیوں میں 76فیصد کمی ہوئی ہے،یہ حشرات پھولوں سے زرگل منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ اور فوڈ چین کا اہم جزو ہیں،حشرات کی کمی کا ذمہ دار فصلوں پر چھڑکی جانے والی کیڑے مار ادویات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی میں

تحقیق کاروں کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں اڑنے والے حشرات کی تعداد میں خطر ناک حد تک کمی ہوئی ہے۔ تحقیق کی رْو سے اس کمی کی ذمہ دار فصلوں پر چھڑکی جانے والی کیڑے مار ادویات ہو سکتی ہیں۔ اب جبکہ یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ یورپ اور شمالی امریکا میں تتلیاں اور شہد کی مکھیاں غائب ہوتی جا رہی ہیں، سائنسی اور تحقیقی آن لائن جریدے ’پی ایل او ایس ون‘ میں شائع ہوئے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ سن 1989 سے اب تک تقریباتین عشروں کے دوران جرمنی میں اڑنے والے کیڑوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔اس حوالے سے ریسرچرز کو بجا طور پر تحفظات ہیں کیونکہ ایک تو یہ حشرات پھولوں سے زرگل منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں اور دوسرے فوڈ چین کا ایک اہم حصہ بھی ہیں جو پرندوں اور دیگر چھوٹی مخلوقات کی خوراک ہیں۔کیڑوں کے حوالے سے اس تحقیقی مطالعے کی ٹیم کے سربراہ اور جرمنی میں قائم راڈ بوڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کار ہنس دے کرون کا کہنا ہے،’’ یہ حقیقت کہ اڑنے والے کیڑے اتنے بڑے علاقے میں اور اتنے بڑے پیمانے پر ختم ہو رہے ہیں بذات خود ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…