پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل نے اہم اسلامی ملک پر حملہ کردیا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شامی دارالحکومت دمشق کے مشرق میں واقع ایک علاقے میں شامی فضائی دفاعی نظام کی بیٹریز کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی لبنانی فضائی حدود میں ایک اسرائیلی طیارے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والا ایک میزائل داغے جانے کے بعد عمل میں آئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان جانتھن کونریکوس نے صحافیوں

کو بتایا کہ ہم طیارے کے خلاف حملے یا شام کی جانب سے ہونے والے کسی بھی حملے کا ذمے دار شامی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی طیارہ لبنانی فضاؤں میں اپنی روٹین کے سروے مشن پر تھا۔ نشانہ بنائی گئی بیٹریز وہ ہی ہیں جن کے ذریعے رواں سال مارچ میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی جانب دو میزائل داغے گئے تھے اور ان میزائلوں کو غور اردن کے علاقے میں فضا میں ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ نمائندے کے مطابق میزائل بیٹریز کو دمشق سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔اسی سلسلے میں اسرائیلی عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ واقعہ ختم ہو چکا ہے اور کسی قسم کی عسکری جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا نشانہ بنایا جانا یہ سْرخ لکیر ہے۔عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ماسکو کے ساتھ عسکری رابطہ کاری کے سلسلے میں روس کو دمشق کے نزدیک کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات اور اس کی وجوہات سے آگاہ کر دیا ۔یاد رہے کہ 2001 میں شام کا تنازع شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کئی مرتبہ شام میں شامی اہداف یا حزب اللہ کے ٹھکانوں کو بم باری کا نشانہ بنا چکا ہے اور شام اور اسرائیل ابھی تک حالت جنگ میں ہیں۔ اسرائیل نے جون 1967 سے شام میں گولان کے پہاڑی علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے جس کا رقبہ تقریبا 1200 مربع کلومیٹر ہے۔ اسرائیل نے 1981 میں اس علاقے کو اپنی ریاست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ عالمی برادری نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ اس وقت بھی تقریبا 510 مربع کلومیٹر کا علاقہ شامی اقتدار کے زیر انتظام ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…