پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں بڑا حملہ،لاشوں کے ڈھیر لگ گئے

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

گردیز(این این آئی)افغان صوبے پکتیا میں طالبان نے ایک پولیس تربیتی سینٹر پر حملہ کر دیاطالبان کے اس حملے میں40 پولیس اہلکار مارے گئے ۔ادھرطالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پکتیا کے دارالحکومت میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حکام نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت گردیز میں واقع ایک تربیتی سنٹر کے قریب ہی ایک خود کش حملہ کیا گیا، جس کے بعد متعدد طالبان نے فائرنگ شروع کردی۔

پکتیا کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبان کے اس حملے میں 40 پولیس اہلکار مارے گئے ۔ صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز کے پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر ہدایت اللہ حمدانی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین، طلباء اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی کہ گردیز میں ہونے والے خود کش بم دھماکے میں پاکتیا صوبے کے پولیس چیف طوریالانی عبدیانی بھی ہلاک ہوگئے۔افغان میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں 40 افراد ہلاک ہوئے۔افغان وزیر داخلہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ پہلے ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھری کار کو ٹریننگ سینٹر کے قریب دھماکے سے اڑایا جس کے بعد متعدد مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کا آغاز کردیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکتیا کے پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب ٹریننگ سینٹر میں ہونے والے حملے میں سیکیورٹی فورسز اور خود کش جیکٹس پہنے ہوئے مسلح حملہ آوروں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔علاوہ ازیں مقامی حکام نے بتایا کہ پولیس کے صوبائی ہیڈکوارٹر میں قائم دو مختلف کمپاؤنڈز کے قریب دو کار بم دھماکے ہوئے، جن میں سے ایک افغان نیشنل آرمی اور دوسرا سرحدی پولیس کے زیر انتظام تھا۔پکتیا کے صوبائی کونسل کے رکن اللہ میر بہرام کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کا ایک گروپ کمپاؤنڈ میں داخل ہوا اور فائرنگ کردی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں پکتیا کے دارالحکومت میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…