افغانستان میں بڑا حملہ،لاشوں کے ڈھیر لگ گئے

  منگل‬‮ 17 اکتوبر‬‮ 2017  |  22:50

گردیز(این این آئی)افغان صوبے پکتیا میں طالبان نے ایک پولیس تربیتی سینٹر پر حملہ کر دیاطالبان کے اس حملے میں40 پولیس اہلکار مارے گئے ۔ادھرطالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پکتیا کے دارالحکومت میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حکام نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت گردیز میں واقع ایک تربیتی سنٹر کے قریب ہی ایک خود کش حملہ کیا گیا، جس کے بعد متعدد طالبان نے فائرنگ شروع کردی۔ پکتیا کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبان کے اس حملے میں


40 پولیس اہلکار مارے گئے ۔ صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز کے پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر ہدایت اللہ حمدانی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین، طلباء اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی کہ گردیز میں ہونے والے خود کش بم دھماکے میں پاکتیا صوبے کے پولیس چیف طوریالانی عبدیانی بھی ہلاک ہوگئے۔افغان میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں 40 افراد ہلاک ہوئے۔افغان وزیر داخلہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ پہلے ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھری کار کو ٹریننگ سینٹر کے قریب دھماکے سے اڑایا جس کے بعد متعدد مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کا آغاز کردیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکتیا کے پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب ٹریننگ سینٹر میں ہونے والے حملے میں سیکیورٹی فورسز اور خود کش جیکٹس پہنے ہوئے مسلح حملہ آوروں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔علاوہ ازیں مقامی حکام نے بتایا کہ پولیس کے صوبائی ہیڈکوارٹر میں قائم دو مختلف کمپاؤنڈز کے قریب دو کار بم دھماکے ہوئے، جن میں سے ایک افغان نیشنل آرمی اور دوسرا سرحدی پولیس کے زیر انتظام تھا۔پکتیا کے صوبائی کونسل کے رکن اللہ میر بہرام کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کا ایک گروپ کمپاؤنڈ میں داخل ہوا اور فائرنگ کردی۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں پکتیا کے دارالحکومت میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

موضوعات:

loading...