پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

چین کو چیلنج،بھارت سری لنکا میں کیا کررہاہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت چین کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے سری لنکا جا پہنچا،بھارت کا کہنا ہے کہ بھارتی اوقیانوس میں بندرگاہ تک چینی رسائی بھارت کی سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے،بھارت سری لنکا میں چین کی پیش رفت کو چیلنج کر رہا ہے، بھارت سری لنکن شہر ہمبنٹوٹا میں چینی ہوائی اڈے پر ہاتھ ڈالنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بھارتی معروف اخبار دی اکنامک ٹائمز کے مطابق چین اور بھارت

مابین ڈوکھلم تنازعے کے پیش نظر بھارت چین کے خلاف سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے تا کہ چین کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ بھارت بارڈر پر خاردار تار لگانے کے ساتھ ساتھ سٹریٹیجک اثاثوں کی تعمیر شروع کر چکا ہے۔ اب بھارت چین کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے سری لنکا جا پہنچا ہے کیوں کہ بھارت سمجھتا ہے کہ بھارتی اوقیانوس میں بندرگاہ تک چینی رسائی بھارت کی سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے۔بھارت اب چین کے خلاف سری لنکا میں بھی اپنے جمے قدموں کو مزید مضبوط کرنے کے درپے ہے۔ بھارت اب سری لنکا میں چین کی پیش رفت کو چیلنج کر رہا ہے۔اس کی واضح مثال سری لنکا کے ہوائی اڈے کو لیز پر لینا ہے ۔بھارت سری لنکن شہر ہمبنٹوٹا میں چینی ہوائی اڈے پر ہاتھ ڈالنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔یہ ہوائی اڈا چار سال قبل چین نے تعمیر کیا تھا جس میں 90فیصد سرمایہ کاری چین نے کی تھی جس کی مالیت 190ملین ڈالر بنتی ہے ۔ اب سری لنکن بنک ایم آر آئی اے قرض لوٹانے سے قاصر ہے کیوں کہ بنک اس وقت انتہائی نقصان میں جا رہا ہے ۔ اس کو دیکھتے ہوئے بھارت نے سری لنکا کو پیشکش کی ہے کہ یہ قرض بھارت اتار دیتا ہے اس کے عوض ہوائی اڈا 99سال کے لئے لیز پر بھارت کے حوالے کیا جائے ۔ ہوائی اڈے کا پورا انتظام و انصرام بھارت کرے۔ اس سلسلہ میں بھارت سری لنکا کے ساتھ اعلی درجے کی بات چیت میں ہے ۔جہاں چین نے اپنے ایک بیلٹ ایک روڈ (OBOR) منصوبے کے حصے کے طور پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…