جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

امریکہ نے ہمیں استعمال کیا اور بعد میں دھتکار دیا پاکستان نے 35 سال بعد بڑا اعتراف کر لیا، اہم اعلان

datetime 28  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ بننا غلط فیصلہ تھا، ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا،80 کی دہائی میں امریکہ کا آلہ کاربننا ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔پاکستان پر الزامات لگانے سے پہلے اس بات پر غور کیا جائے کہ پاکستان کے مسائل اور مشکلات امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے بعد پیدا

ہوئے جب پاکستان کو امریکہ نے بحیثیت آلہ کار استعمال کیا۔نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گذشتہ 15 سالوں سے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں پوست کے کاشت میں مسلسل اضافہ، طالبان کا کھوئے ہوئے حصوں پر واپس قبضہ، شدت پسند تنظیم داعش کی وہاں موجودگی اور ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن جیسے مسائل کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔ انہوں نے افغان فوجی اپنے ہتھیاروں کی نیلامی کر رہے ہیں اور طالبان کو بیچ رہے ہیں، پاکستان ایسے مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔بلاشبہ ہم نے غلطیاں کی ہیں لیکن ہم اکیلے نہیں ہیں ان غلطیوں کو کرنے میں اور صرف ہمیں مورد الزام ٹھہرانا ناانصافی ہے۔ امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد خطے کو ایسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔ اس کے بعد سے ہم جہنم میں چلے گئے اور آج تک اسی جہنم میں جل رہے ہیں۔وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش ہو رہی تھی اور اس حوالے سے مری میں مذاکرات ہو رہے تھے تو ملا عمر کی موت کی خبر جاری کر دی گئی، پھر طالبان رہنما جب ایران سے واپس آ رہا تھا تو اسے پاکستان سرزمین پر ہلاک کر دیا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ کوئی تو ہے جو چاہتا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کا حامی

نہیں ہے۔ پاکستان صرف ایک حد تک افغان مسئلے کے حل کی ذمہ داری لے سکتا ہے، باقی کام افغانستان کو خود کرنا ہوگا۔سرحدوں کی دیکھ بھال کرنا سب سے ضروری ہے اور افغان حکومت کو اس پر توجہ دینی ہو گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان کے لیے ایک لائبیلیٹی یا بوجھ ہیں مگر ان سے جان چھڑانے کے لیے پاکستان کو وقت چاہیے۔ پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بحران

کی صورت میں پاکستان اور خطے کے لیے ایک لائبیلیٹی یا بوجھ ثابت ہو سکتے ہیں۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے تقریب میں مزید کہا کہ بھارت میں درجنوں دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں اور بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کررہا ہے۔ افغانستان میں امن و سلامتی کی ذمے داری پاکستان پر ڈالی نہیں جاسکتی اور نہ ہی اسلام آ باد کابل میں قیام امن کا ضامن ہے جبکہ کئی افغان رہنما اپنے مفادات کیلئے پاکستان سے کشیدگی

جاری رکھنا چاہتے ہیں۔بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اس لیے پاک افغان سرحدپرمو¿ثربارڈرمینجمنٹ ناگزیرہے۔ بھارت میں 66 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور نریندر مودی اب تک گجرات سے باہر نہیں نکل سکے.

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…