جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

یہ مسلما ن خا تو ن کو ن ہے؟ جس کی بھارت میں دیوی کی طرح پو جا کی جا تی ہے ؟

datetime 15  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈیسک) بھارت میں ایک مسلمان خاتون کی بطور دیوی پوجا کی جاتی ہے، تفصیلات کے مطابق بھارت کی ریاست گجرات کے علاقے گاندھی نگر کے قریب ایک ایسا گاؤں واقع ہے جہاں ایک مسلمان خاتون کی دیوی کے طور پر پوجا کی جاتی ہے، واضح رہے کہ اس گاؤں میں ایک بھی مسلمان خاندان موجود نہیں ہے۔ برطانوی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی ریاست گجرات کے علاقے گاندھی نگر کے

پاس واقع ایک گاؤں جھلاسن میں ایک مسلمان خاتون کی دیوی کے طور پر پوجا کی جاتی ہے۔ جب بھارتی نژاد امریکی خلا باز سنیتا ولیمز اپنے والد کے ساتھ اس گاؤں میں آئی تھیں اس وقت یہ گاؤں میڈیا کی شہ سرخیوں میں آیا تھا، یہاں بھارتی نژاد امریکی خلا باز سنیتا ولیمز اپنے والد کے ساتھ ڈولا ماں نام کی دیوی کے درشن کرنے آئی تھیں۔ بھارت کا یہ گاؤں گاندھی نگر سے کوئی 20 کلومیٹر فاصلے پر ہے اور اس کی آبادی پانچ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس گاؤں میں کوئی ایسا خاندان نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی آدمی بیرون ملک نہ رہتا ہو۔ یہاں پر 800 برس پرانا ڈولا ماں کا مندر واقع ہے۔ جھلاسن سے متصل گاؤں لول کے بی جے پی کے مقامی رہنما مکیش پٹیل نے اس بارے میں کہا کہ ڈولا ماں ایک مسلمان خاتون تھیں۔ اس کے بارے میں ہمارے باپ دادا نے ہمیں بتایا تھا۔ ڈولا ماں کی کہانی سناتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کہ جب گاؤں میں لٹیرے آتے تھے اور گاؤں کو لوٹ کر چلے جاتے تھے تو پڑوس کے گاؤں سے گزرنے والی ایک مسلمان خاتون نے دیکھا کہ جھلاسن گاؤں میں لوٹ مار ہو رہی ہے۔ اس مسلمان خاتون نے رک کر ڈاکوؤں کو للکارا اور لڑتے لڑتے اپنی جان دے دی۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں آج مندر ہے وہ وہیں ہلاک ہوئی تھیں۔ اس سارے واقعے کے بہت عرصے بعد ان کے نام پر مندر تعمیر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ان سے عقیدت ہے۔

وہ ہماری حفاظت بھی کرتی ہیں اور ہماری تکلیفیں بھی دور کرتی ہیں۔ اس گاؤں جھلاسن کے جو لوگ بیرون ملک رہتے ہیں، ان میں سے ایک امریکی خلا باز سنیتا ولیمز کے والد دیپک پنڈیا بھی ہیں۔ واضح رہے کہ دیپک پنڈیا 22 برس کی عمر تک جھلاسن ہی میں رہتے تھے، جس کے بعد وہ امریکہ روانہ ہو گئے تھے۔ ان کی بیٹی سنیتا ولیمز جب پہلی بار خلا میں جانے والی تھیں تو اس وقت وہ اپنے والد کے ساتھ ڈولا ماں کے مندر میں حاضری دینے آئی تھیں۔

وہاں پر موجود مندر کے پجاری دنیش پنڈیا نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جھلاسن کا بیرونِ ملک مقیم کوئی بھی شخص ہوائی اڈے سے سیدھا ڈولا ماں کے درشن کرنے کے بعد ہی گھر جاتا ہے۔گاؤں کے رہائشی وشنو پٹیل نے کہا کہ ڈولا ماں کے مسلمان ہونے کے باوجود گاؤں میں ایک بھی مسلمان خاندان آباد نہیں ہے لیکن اتوار اور جمعرات کو قریبی دیہاتوں سے مسلمان بڑی تعداد میں ڈولا ماں کے مندر آتے ہیں، کیونکہ ان دنوں کو ڈولا ماں کے منت کے دن سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…