ہفتہ‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2025 

روہنگیا کی اپنے گھروں کو خود جلانے کی تصاویر جعلی نکلیں

datetime 13  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ینگون(این این آئی)بین الاقوامی صحافیوں کو ان علاقوں میں لے جایا گیا جہاں روہنگیا باشندوں کے دیہات جل کر راکھ ہو چکے ہیں۔ وہاں وہی ہندو موجود تھے، جنہیں روہنگیا قرار دیتے ہوئے خود اپنے گھروں کو آگ لگانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھاجبکہ ابھی تک میانمار حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ روہنگیا مسلمان اپنے گھروں کو خود آگ لگا رہے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بدھ راہب زاتیکا کا غیر ملکی صحافیوں سے

گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ میں نے تو انہیں (روہنگیا مسلمانوں کو) روکا بھی تھا کہ ایسا نہ کرو لیکن وہ آگ لگانا ہی چاہتے تھے۔اس دعوے کے کچھ ہی دیر بعد اس بدھ راہب کے ایک قریبی ساتھی موانگ موانگ نے ایسی تصاویر بھی شائع کی تھیں، جن میں یہ دکھایا گیا تھا کہ روہنگیا مسلمان اپنے گھروں کو خود آگ لگا رہے ہیں۔ یہ وہ تصاویر ہیں، جنہیں میانمار کے حکومتی حلقے اور مقامی اخبارات شواہد کے طور پر پیش کر چکے ہیں۔حکومت اپنی زیر نگرانی جن غیر ملکی صحافیوں کو متاثرہ راکھین ریاست کا دورہ کروا رہی تھی، انہوں نے دیکھا کہ تصاویر میں دکھائی دینے والے دو افراد اسی شیلٹر میں موجود ہیں، جہاں ان صحافیوں کو لے جایا گیا تھا۔ایک اسکول میں قائم کیا گیا یہ شیلٹر حکومت نے مقامی ہندو برادری کے افراد کے لیے قائم کیا تھا۔ ان ہندوؤں کا غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے گھر مسلمانوں نے جلا دیے ہیں۔دو ہندوؤں کے پہچان لیے جانے سے پہلے ہی ایسی تصاویر مشکوک نظر آ رہی تھیں۔ جعلی تصاویر میں جس خاتون کو روہنگیا مسلمان خاتون قرار دیا گیا تھا، اس کا سر کسی میزپوش سے ڈھانپا گیا تھا۔ اسی تصویر کو ایک مقامی الیون میڈیا گروپ نے شائع کیا تھا کہ دیکھیں روہنگیا خود اپنے گھروں کو جلا رہے ہیں۔ بعد ازاں حکومتی ترجمان ساہتے نے بھی یہی کہتے ہوئے انہی تصاویر کا لنک ٹویٹ بھی کر دیا تھا۔یہ حقیقت منظر عام

پر آنے کے بعد کہ یہ تصاویر جعلی ہیں، حکومت نے اس کی تفتیش کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی ترجمان ساہتے کا اب کہنا تھا کہ آگ لگانے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…