جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

امریکی سپریم کورٹ کا پناہ گزینوں کی آمد پر عائد پابندی بحال کرنے کا حکم دیدیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکہ کی سپریم کورٹ نے حکومت کو دنیا بھر سے آنے والے پناہ گزینوں کی آمد پر عائد پابندی بحال کرتے ہوئے صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد کی اجازت دے دی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بدھ کو امریکہ کی سپریم کورٹ نے حکومت کو دنیا بھر سے آنے والے پناہ گزینوں کی آمد پر عائد پابندی بحال کرتے ہوئے صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد کی اجازت دے دی۔ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سپریم کورٹ کو

درخواست دی تھی کہ وفاقی اپیلز کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے جس کے تحت امریکہ میں 24000 مزید پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دی جانی تھی۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو جزوی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔گذشتہ سال اکتوبر میں ہائی کورٹ نے سفری پابندیوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ نے 6 مارچ کو صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں چھ مسلم اکثریتی ممالک، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام، اور یمن سے آنے والے پناہ گزینوں کی آمد پر 120 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔صدر ٹرمپ نے کا دعوی تھا۔ اس اقدام کا مقصد دہشتگردی کے واقعات کو روکنا ہے۔امریکی عدالتوں نے صدارتی حکم نامے کے دائرہ اختیار میں کمی کی ہے، جیسے گذشتہ ہفتے ایک عدالت نے حکم دیا کہ قانونی طور پر امریکہ میں مقیم لوگوں کے دادا، دادی، نانا، نانی، والدین کے بہن بھائیوں اور ان کے بچوں پر یہ سفری پابندی عائد نہیں ہوتی ہے۔امریکی محکمہ انصاف نے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم عدالت کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پناہ گزینوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کی پالیسی انتہائی وسیع ہے اور عدالت نے ان پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دے جن کے پاس کی ری سیٹلمنٹ ایجنسی کی جانب سے باقاعدہ پیشکش موجود تھی۔

انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کے اس حصہ کے خلاف اپیل کی اور سپریم کورٹ نے ایک جملے کے حکم نامے میں حکومت کا موقف درست قرار دیا۔صدر ٹرمپ کے حکم نامے کو ریاست ہوائی کے اٹارنی جنرل نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے دفتر سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…