منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان کے بعد بنگلہ دیش کا نمبربھی آگیا،لاکھوں روہنگیامہاجرین پہنچ گئے،لرزہ خیز صورتحال

datetime 5  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) دنیا بھر میں لوگ روہنگیا مسلمانوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے،میانمار کی لیڈر آنگ سان سوچی کے خلاف آن لائن پٹیشن پر تین لاکھ سے زائد دستخط ہوچکے ہیں آنگ سان سوچی سے نوبل امن انعام واپس لینے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی کے مطابق دنیا بھر میں لوگ روہنگیا مسلمانوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔ چیچنیا،روس،بھارت اور انڈنیشیا سمیت کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے۔

آنگ سان سوچی سے امن کا نوبل انعام واپس لینے کیلئے آن لائن مہم میں پٹیشن پر تین لاکھ سے زائد دستخط کیے ، اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 24 گھنٹے میں مزید 35 ہزار روہنگیامسلمان بنگلہ دیش پہنچ گئے۔برطانوی میڈیا کے مطابقپناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ میانمار سے بنگلہ دیش جانے والے روہنگیاں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور گذشتہ دو ہفتوں میں سوا لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔یو این ایچ سی آر نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 35000 مزید پناہ گزینوں نے بنگلہ دیش کی سرحد عبور کی ہے جو کہ ایک دن میں نقل مکانی کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ بنگلہ دیش کے سرحدوں کی حفاظت پر معمور پولیس اہلکار روہنگیا مسلمانوں کو دریائے ناف عبور کر کے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں حالانکہ کہ سرکاری طور پر حکومتی نے اس پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی برائے میانمار یانگ ہی لی نے ملک میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے ملک کی رہنما آنگ سان سوچی کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ رخائن میں ‘حالات نہایت خراب’ ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ آنگ سان سوچی اس معاملے کے حل کے لیے ‘قدم اٹھائیں’۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بار رخائن میں ہونے والی تباہی اکتوبر کے واقعات سے ‘کہیں زیادہ بڑی ہے۔

میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ پر ایک نظر۔یاد رہے کہ روہنگیا مسلمان میانمار کی وہ اقلیت ہیں جنھیں ملک کا شہری تصور نہیں کیا جاتا۔رخائن میں حالیہ پرتشدد واقعات اور ان کے نتیجے میں روہنگیاں کی نقل مکانی کا سلسلہ 25 اگست کو اس وقت شروع ہوا تھا جب حکومتی دعووں کے مطابق روہنگیا شدت پسندوں نے 30 کے قریب پولیس تھانوں اور فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں میں سے بہت سے کئی روز کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔ملک بدر ہونے والے کئی روہنگیا مسلمانوں نے بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والوں میں میانمار کی فوج کے علاوہ رخائن میں بدھ مت کے پیرو کار تھے جنھوں نے ان کے دیہات کو نذر آتش کیا اور شہریوں پر حملہ کیا۔میانمار کی حکومت کے مطابق ملک کی فوج روہنگیا شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہے جو شہریوں پر حملے کرنے میں ملوث ہیں۔آزادانہ طور پر ان دعوں کی تصدیق کرنا کافی دشوار ہے کیونکہ حکومت نے اس علاقے تک صحافیوں کو رسائی نہیں دی ہوئی ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…