ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

قطر سازشوں اور دولت مندی کا دارالحکومت !امریکی اخبار کی رپورٹ میں حیرت انگیز دعوے کردیئے گئے

datetime 18  جولائی  2017 |

نیویارک(این این آئی)سازشوں اور دولت مندی کا دارالحکومت، جی ہاں امریکی اخبار نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کی فضاؤں کا وصف اس عبارت کے ساتھ بیان کیا ہے۔اس کی عمارتوں کے اطراف کا احاطہ کیے ہوئے تعیّش کے پیچھے جنگجوؤں ، مالی رقوم فراہم کرنے والوں اور نظریاتی شخصیات کا ایک حیران کن گروہ پایا جاتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اخبار نے اس منظر کو مختصرا یوں بیان کیا ہے کہ یہاں مقامی آبادی اور اْن مقیم افراد کا امتزاج ہے جن میں جلا وطنی گزارنے والے شامی ، اسلام پسند لیبیائی اور سوڈانی رہ نما شامل ہیں۔

امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں قطر میں 100 کے قریب طالبان ذمے داروں کی اپنے خاندانوں سمیت موجودگی کا حوالہ دیا جو امریکی یونی ورسٹی کے کیمپس کے اطراف آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں۔قطر میں امریکی فوجی اڈہ بھی پایا جاتا ہے جہاں 9 ہزار عسکری اہل کاروں کے علاوہ جنگی طیارے بھی ہیں جو داعش اور طالبان کے ٹھکانوں پر بم باری کے لیے اڑان بھرتے ہیں۔دوحہ حکومت کے تضاد کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر نے اْن مالی رقوم کی طرف سے آنکھیں موند رکھی ہیں جو شام میں شدت پسندوں کو بھیجی جا رہی ہیں۔اخبار کے مطابق حماس تنظیم کے ذمے دار جن میں تنظیم کے سیاسی بیورو کے سابق سربراہ خالد مشعل شامل ہیں دوحہ میں برطانوی سفارت خانے کے قریب ایک بنگلے میں رہتے ہیں۔دوسری جانب قطر میں 1996 سے 2008 کے درمیان اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کا دفتر بھی موجود تھا۔اسی طرح آل ثانی خاندان نے صدام حسین کے گھرانے ، اسامہ بن لادن کے ایک بیٹے اور چیچن جنگی رہ نما زیلم خان یانداربیف کا بھی استقبال کیا تھا۔ زیلم خان کو 2004 میں روس کے خفیہ ایجنٹوں نے ہلاک کر دیا تھا۔اخبار نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر کہا کہ ڈیوڈ وربرٹ کی قطر کے متعلق کتاب کے مطابق ایسا ملک ہے جہاں وہ شورش پھیلانے والے افراد پناہ لیتے ہیں جن کو اپنے ممالک میں ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…