جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ میں طالبات کے ساتھ افسوسناک سلوک، قرآن ٹیچر کو 13 سال قیدکی سزاسنادی گئی

datetime 8  جولائی  2017 |

لندن(آئی این پی)برطانیہ کے شہر کارڈِف میں چار جوان سالہ لڑکیوں کو مسجد میں قرآن کی کلاس کے دوران جنسی طور پر چھونے والے قرآن ٹیچر کو 13 سال کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا۔برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق 81 سالہ محمد حاجی صدیقی مسجد میں طلبہ کو اپنے سامنے بٹھا کر قرآن کی تعلیم دیتے تھے، ایک دن انہوں نے بھری کلاس میں ان طالبات کو جنسی طور پر چھوا اور قرآن پڑھنے کے دوران غلطیاں کرنے پر انہیں کئی بار تھپڑ رسید کیے۔

کارڈِف کران کورٹ میں معاملے کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ محمد حاجی صدیقی کے پاس میٹل اور لکڑی کی بنی ہوئی اسٹِکس، جو وہ بچوں کو غلطی کرنے پر سزا کے طور پر انہیں پیٹنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔کارڈف کی مدینہ مسجد میں 30 سال سے زائد عرصے سے قرآن کی تعلیم دینے والے محمد حاجی صدیقی پر ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہونے پر فرد جرم عائد کی گئی، عدالتی جیوری نے انہیں طلبہ کو مارنے پیٹنے کے 6 اور جنسی حملوں کے 8 الزامات میں مجرم پایا، جبکہ یہ واقعات 1996 سے 2006 کے درمیان پیش آئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جج اسٹیفن ہوپکِنز کیو سی نے محمد حاجی صدیقی کو 13 سال کی سزا سنائی اور ان کا نام ہمیشہ کے لیے بطور جنسی حملہ آور رجسٹر کرنے کا حکم دیا۔اسٹیفن ہوپکِنز کا حکم سناتے ہوئے محمد حاجی صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چاروں شکایت کنندہ واقعی بہت بہادر ہیں جنہوں نے باضابطہ شکایت درج کراتے اور آپ کے خلاف شواہد پیش کرتے ہوئے نہ صرف ذاتی بلکہ ثقافتی رکاوٹوں کو بھی پار کیا۔انہوں نے کہا کہ محمد حاجی صدیقی کو، جنہوں نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسجد کے دیگر اراکین کی جانب سے سازش قرار دیا، اس بات کا بلکل اندازہ نہیں کہ ان کے ایکشنز سے دوسروں کو کیا تکلیف پہنچی۔

معاملے کی سماعت کے دوران عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ محمد حاجی صدیقی ہانگ کونگ میں پیدا ہوئے اور 1967 میں برطانیہ آنے سے قبل پاکستان میں بھی مقیم رہے۔وہ کارڈف کی مدینہ مسجد کے رکن تھے اور اس کے معاملات سنبھالنے میں پیش پیش تھے، جبکہ وہ پرائمری اسکول کے طلبہ کو قرآن کی تعلیم بھی دیتے تھے۔

محمد حاجی صدیقی کے خلاف پولیس نے 2006 میں دو لڑکیوں کی شکایت پر پہلی بار تحقیقات کا آغاز کیا تھا، تاہم حاجی صدیقی نے الزامات کو مسترد کردیا۔مزید دو لڑکیوں کی شکایت پر ان کے خلاف 2016 میں دوبارہ تحقیقات کا آغاز ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…