جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب اورخلیجی ممالک کی پابندیوں کا جواب،ایران نے قطر کو اب تک کی سب سے بڑی پیشکش کردی

datetime 6  جولائی  2017 |

تہران(این این آئی) ایرانی ہوائی اڈوں اور فضائی سِمت شناسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رحمت الہ آبادی نے کہا ہے کہ دوحہ پر لازم ہے کو وہ ایران کے حوالے سے اچھا برتاؤ رکھے تا کہ وہ قطر کے لیے اپنی فضائی حدود کو کھول دے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک بیان میں رحمت کا کہنا تھا کہ ایران نے قطری ہوابازی کے لیے اپنی فضائی حدود کھولنے کا ارادہ کیا ہے تا کہ اْس پر مسلط بائیکاٹ کے نتائج میں تخفیف کی جا سکے۔

رحمت کے مطابق ایران نے دوحہ کو آگاہ کر دیا کہ وہ قطر کے ساتھ تعلقات کو وسیع کرنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ قطری فضائی کمپنی کی جانب سے ایرانی فضاؤں کے استعمال کے بدلے کسی قسم کی مالی آمدنی حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ایرانی ذمے دار نے قطر پر زور دے کر کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ بحران کا تصفیہ ہو جانے کی صورت میں بھی وہ دوحہ کے حوالے سے ایرانی موقف اور سپورٹ کو ہر گز نہ بْھولے۔بائیکاٹ سے دْور ہٹ کر بات کی جائے تو اس پہلے ہی دوحہ یہ اعلان کر چکا تھا کہ وہ تہران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانا چاہتا ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب، امارات ، بحرین اور مصر نے دہشت گردی کی سپورٹ اور مذکورہ چاروں ممالک کے امور میں مداخلت کے سبب پانچ جون کو قطر کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ بعد ازاں قطر کو 13 مطالبات پیش کیے گئے۔ ان مطالبات میں دہشت گردی روک دینے اور دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو پناہ فراہم کی جانے کی بندش سرِ فہرست ہیں۔دوحہ کو مطالبات کا جواب دینے کے واسطے 3 جولائی تک کی مہلت دی گئی۔ اس کے بعد مہلت میں 48 گھنٹوں کی توسیع کر دی گئی۔ یہ توسیع کویت کی درخواست پر کی گئی جو خلیجی ممالک کے بحران کے حل کے واسطے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…