بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے رویہ تبدیل نہیں کیا تو۔۔۔! امریکہ نے کھل کر دھمکی دیدی

datetime 4  جولائی  2017 |

کابل(آئی این پی)امریکی سینیٹر جان مکین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان رویہ تبدیل نہیں کرتاتوہوسکتا ہے امریکا کورویہ تبدیل کرنا پڑے، دہشتگردتنظیموں کیخلاف تعاون کی بات پاکستان پرواضح کردی،امید ہے پاکستان حقانی نیٹ ورک اوردیگر دہشتگردتنظیموں کیخلاف تعاون کریگا۔منگل کو افغان میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں امریکی سینٹ کے وفد نے پاکستان کے بعد افغانستان کا دورہ کیا جہاں انھوں نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔

امریکی سینیٹر جان مکین کا کہنا ہے کہ دہشتگردتنظیموں کیخلاف تعاون کی بات پاکستان پرواضح کردی ہے ۔ امید ہے پاکستان حقانی نیٹ ورک،دہشتگردتنظیموں کیخلاف تعاون کریگا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان رویہ تبدیل نہیں کرتاتوہوسکتا ہے امریکا کورویہ تبدیل کرنا پڑے۔افغان ٹی وی طلوع نیوز کے مطابق کانگریس کے وفد نے پاکستان میں حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ افغانستان میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی کی ضرورت تھی ۔ملک میں جاری جنگ جیتنے کیلئے فورسزکو مزید اختیارارت دیئے جائیں۔اس سے قبل امریکی سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں امریکی سینیٹ کے وفد سے ملاقات میں افغان صدر اشر ف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان امریکہ کی نگرانی میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحدی کاروائیوں کی تجویز سے متفق ہے ۔امریکی سینیٹر ز کے وفد نے دورہ پاکستان کے دورا ن اعلی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد کابل پہنچنے پر افغان لیڈر شپ کے ساتھ ملاقات کی ۔ملاقات کے دوران اشرف غنی کا کہنا تھاکہ افغانستان نے تجارتی اور ٹرانزٹ کے لنکس کو مختلف النوع بنادیا ہے اس لیے اب ہمارا پاکستان پر مزید انحصار نہیں رہا ہے ۔واضح رہے کہ امریکی سینیٹر جان مکین کی قیادت میں وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں انھوں نے وزیراعظم نوازشریف ،مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کیں اسکے علاوہ امریکی وفد نے جنوبی وزیر ستان کے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا۔

وفد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جبکہ پاک افغان بارڈر سیکورٹی کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔امریکی سینیٹر جان مکین نے کہا تھا کہ افغانستان میں استحکام کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے، اس کی مدد کے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں،

کشمیر کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی، امریکا پرامن مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل چا ہتا ہے۔ امریکی وفد میں جان مکین کے علاوہ لنڈسے گراہم، شیلڈن وائٹ ہاس، الزبتھ وارن اور ڈیوڈ پرڈیو شامل تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…