بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

یہ پُل چین کو کس ملک سے جوڑنے کیلئے بنایا گیا اور تیاری پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود کوئی بھی اسے استعمال کیوں نہیں کرتا؟

datetime 4  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اربوں کی لاگت سے بننے والے بڑے بڑے پلوں پر سے روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں مگر چین کو شمالی کوریا سے ملانے کے لئے بنایا گیا یہ پل ہر وقت ویران پڑا رہتا ہے، کیونکہ یہ دریا کے اس پار کسی بڑی شاہراہ سے ملنے کی بجائے کھیتوں میں جااترتا ہے۔ یہ عظیم الشان عجوبہ 2.2 ارب یووان (تقریباً 33 ارب پاکستانی روپے) کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور چین سے شروع ہو کر دریائے

یالو سے گزرتا ہوا شمالی کوریا میں داخل ہوتا ہے۔اسے چین کو شمالی کوریا کے ساتھ ملا کر اس علاقے میں قائم کئے گئے فری ٹریڈ زون کو ترقی دینا تھا، تاکہ دنیا بھر سے لڑائی پر تلے ہوئے شمالی کوریا کو جنگ کے راستے سے ہٹا کر کاروبار اور امن کے راستے پر لایا جاسکے۔ بدقسمتی سے چین کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور شمالی کوریا اوپر تلے ایٹمی دھماکے کرتا چلا گیا جس کے باعث اقوام متحدہ اور مغربی ممالک نے اس پر پابندیاں عائد کردیں۔ چین کی جانب سے بھی ان پابندیوں کی حمایت کی گئی جس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ دریائے یالو پر دونوں ممالک کو ملانے والا پل چین کی جانب سے تو مکمل ہوگیا لیکن شمالی کوریا کی جانب سے راستے میں ہی رک گیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ چین کے سرحدی شہر ڈان ڈونگ سے شروع ہونے والا یہ پل دریا کے اوپر سے گزرتا ہے اور دوسری جانب ہرے بھرے کھیتوں میں جا اترتا ہے، جبکہ دور دور تک کسی سڑک یا رہائشی علاقے کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا۔ اس پل کو دیکھنے والے حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ آخر یہ کہاں جارہا ہے۔حال ہی میں شمالی کوریا کی جانب سے پانچواں ایٹمی دھماکہ کئے جانے کے بعد چین نے بھی اس کی مذمت کی ہے اور خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایسی بہتری ممکن نظر نہیں آتی کہ دریائے یالو پر تعمیر کئے گئے نامکمل پل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…