جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

یہ پُل چین کو کس ملک سے جوڑنے کیلئے بنایا گیا اور تیاری پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود کوئی بھی اسے استعمال کیوں نہیں کرتا؟

datetime 4  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اربوں کی لاگت سے بننے والے بڑے بڑے پلوں پر سے روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں مگر چین کو شمالی کوریا سے ملانے کے لئے بنایا گیا یہ پل ہر وقت ویران پڑا رہتا ہے، کیونکہ یہ دریا کے اس پار کسی بڑی شاہراہ سے ملنے کی بجائے کھیتوں میں جااترتا ہے۔ یہ عظیم الشان عجوبہ 2.2 ارب یووان (تقریباً 33 ارب پاکستانی روپے) کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور چین سے شروع ہو کر دریائے

یالو سے گزرتا ہوا شمالی کوریا میں داخل ہوتا ہے۔اسے چین کو شمالی کوریا کے ساتھ ملا کر اس علاقے میں قائم کئے گئے فری ٹریڈ زون کو ترقی دینا تھا، تاکہ دنیا بھر سے لڑائی پر تلے ہوئے شمالی کوریا کو جنگ کے راستے سے ہٹا کر کاروبار اور امن کے راستے پر لایا جاسکے۔ بدقسمتی سے چین کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور شمالی کوریا اوپر تلے ایٹمی دھماکے کرتا چلا گیا جس کے باعث اقوام متحدہ اور مغربی ممالک نے اس پر پابندیاں عائد کردیں۔ چین کی جانب سے بھی ان پابندیوں کی حمایت کی گئی جس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ دریائے یالو پر دونوں ممالک کو ملانے والا پل چین کی جانب سے تو مکمل ہوگیا لیکن شمالی کوریا کی جانب سے راستے میں ہی رک گیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ چین کے سرحدی شہر ڈان ڈونگ سے شروع ہونے والا یہ پل دریا کے اوپر سے گزرتا ہے اور دوسری جانب ہرے بھرے کھیتوں میں جا اترتا ہے، جبکہ دور دور تک کسی سڑک یا رہائشی علاقے کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا۔ اس پل کو دیکھنے والے حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ آخر یہ کہاں جارہا ہے۔حال ہی میں شمالی کوریا کی جانب سے پانچواں ایٹمی دھماکہ کئے جانے کے بعد چین نے بھی اس کی مذمت کی ہے اور خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایسی بہتری ممکن نظر نہیں آتی کہ دریائے یالو پر تعمیر کئے گئے نامکمل پل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…