جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چین بھارت کشیدگی محض ’’کھیل‘‘ نہیں،کیا ہونے والا ہے ،معروف بھارتی تجزیہ کار نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 1  جولائی  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی) بھارت کے سابق سفارتکار اور معروف تجزیہ کارنے اپنے انٹرویو میں چین اور بھارت مابین کشیدگی کو بچوں کے کھیل گوکارٹنگ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور چین کے مابین جو کچھ چل رہا ہے وہ گو کارٹنگ ہے ، اگر یہ محض کھیل ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لیکن ظاہر ہے ایسا نہیں ہو گا ، بیجنگ اور نئی دلی کو بھی بہر صورت ایسا ہی رویہ اختیار کرنا ہوگا ، دونوں کو ایک دوسرے کا باہمی احترام کرتے ہوئے منصفانہ طریقے سے اپنی اپنی حدود و قیود کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل کے مستقل حل کی طرف جانا ہو گا،

معروف بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق سابق سینئر بھارتی سفارتکار جو چین میں اپنی خدمات سرانجام دیتے رہیں ہیں نے اپنے ایک انٹرویو میں چین اور بھارت مابین کشیدگی کو بچوں کے کھیل گو کارٹنگ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور چین کے مابین جو کچھ چل رہا ہے وہ گو کارٹنگ ہے، اس کھیل میں عموماّ بچے اور کبھی کبھی بالغ حضرات تفریحی پارک میں چھوٹی برقی کاریں چلاتے ہیں اور کبھی کبھی آپس میں ٹکرا کر محظوظ ہوتے ہیں لیکن کھیل ختم ہونے پر اسے ہنسی میں اڑا دیا جاتا ہے اور آپس میں ہاتھوں کے اشارے سے بتاتے ہیں کہ کتنا مزا آیا۔ لیکن بعض و اوقات ایسا کھیل خطرناک حادثے کا بھی سبب بن جاتا ہے ۔ چین اور بھارت کے لئے اس میں ایک سبق ہے ۔ یہ کشیدگی دونوں ممالک کے لئے مسائل میں اضافہ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ دونوں فریقین اسے محض کھیل نہ سمجھیں اگر کھیل کھیل میں تصادم کی صورت حال پیدا ہو گئی تو نہ صرف فریقین کے لئے بلکہ خطے کے لئے بھی نقصان دہ ہو گی۔ اگر یہ محض کھیل ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لیکن ظاہر ہے ایسا نہیں ہو گا ، بیجنگ اور نئی دلی کو بھی بہر صورت ایسا ہی رویہ اختیار کرنا ہوگا ، دونوں کو ایک دوسرے کا باہمی احترام کرتے ہوئے منصفانہ طریقے سے اپنی اپنی حدود و قیود کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل کے مستقل حل کی طرف جانا ہو گا۔ یہ دونوں ممالک کے لئے انتباہ ہے اسے محض مذاق نہ سمجھا جائے جیسا کہ بھارت اور چین دونوں کی طرف سے اشتعال انگیز سفارتی عمل کے سلسلے سے واضح ہے۔ دونوں اطراف سے اب تک بنیادی خدشات کے لئے نا کافی احترام دکھایا گیا ہے۔

جیسا کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں بھارتی شمولیتپر چین کا موقف رکاوٹ ہے۔مسعود اظہر کے معاملہ پر بھی چین بار بار اپنی ویٹو پاور کی ورزش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ چین کا بھاری پلڑا واضح طور پر اسلام آباد کی طرف دکھائی دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ چین دہشتگردی کے مسئلے پر بھی پاکستان کا حمایتی ہے۔

ایسی صورتحال میں بھارت بھی اپنا تبتی کارڈ استعمال کرنے پر حق بجانب ہے لیکن یہ محض دکھاوے کے طور پر ہو تو بہتر ہے ورنہ کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔واشنگٹن ڈی سی میں حالیہ مودی ٹرمپ ملاقات کے بعدبھارت اور امریکہ کے تعلقات پر موجودہ مرکزی دھارے کے معاملات پر یہ حقیقت بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی گئی کہ ان کے بنیادی مشترکہ مقاصد میں سے ایک چین پر مشتمل ہے۔اگر چین نے بھارت کو برانگیختہ کیا تو بی جے پی کے انتہائی قوم پرست حامیوں کی سوچ یہ ہے کہ پھر ہمیں بھی اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…