جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

قطر پر پابندیاں کب تک برقرار رہیں گی؟سعودی عرب نے اہم ترین اعلان کردیا

datetime 17  جون‬‮  2017 |

ریاض/لندن (آئی این پی)سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ جب تک قطر اپنی موجودہ پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا، سعودی عرب تب تک ان کے ساتھ روابط بحال نہیں کرے گا۔برطانوی نشریاتی ادارے ’’بی بی سی ‘‘ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویوو میں انھوں نے کہا کہ حالیہ اقدامات کا مقصد قطر کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ایک سخت پیغام بھیجنا ہے کہ جب تک آپ کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوتیں تب تک ہم آپ کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔

اگر آپ ہمارے ساتھ نارمل تعلقات چاہتے ہیں تو آپ کو ہمارے ساتھ نارمل رویہ رکھنا ہوگا۔واضح رہے کہ حال ہی میں چھ عرب ممالک سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات مقطع کردتے تھے۔ ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر اخوان المسلمون کے علاوہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔ قطر نے اس اقدام کو بلاجواز اور بلاوجہ قرار دیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں کہ کیا کوئی دس نقاتی مطالبات کی فہرست ہے جس میں قطر سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنا خبر رساں ادارہ الجزیرہ بند کر دے، سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ میڈیا میں جو آپ سن رہے ہیں اس میں زیادہ تر قیاس آرائیاں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم مطالبات کی فہرست کے لیے مصر، بحرین، اور امارات کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اور ان مطالبات کی مرکزی توجہ شدت پسندی کے پھیلا کو روکنے پر ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ دہشتگردی اور شدت پسندی کے پھیلا کا الزام تو سعودی عرب پر بھی بہت شدید ہے، وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے میں یہ مسئلہ تاریخ کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ 15-18 سالوں میں ہم نے اس کے خلاف اقدامات کیے ہیں، ہم نے خیراتی اداروں کی تفتیش کڑی کر دی ہے اور لوگوں کو اس حوالے سے جیلوں میں ڈالا ہے۔ نامہ نگار کا سوال تھا کہ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سارا معاملہ ایران کے ساتھ قطر کے قدرے نرم رویے کا ہے، جس پر سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ کویت کے بھی ایران کے ساتھ تعلقات ہیں، عمان کے بھی ایران کے ساتھ تعلقات ہیں، ہم نے ان کے ساتھ تو ایسے اقدامات نہیں کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…