جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے گلے میں کانٹا پھنس گیا،خطے میں چین کے نئے اقدامات کس طرح اثر انداز ہونگے؟ گلوبل ٹائمز کے حیرت انگیزدعوے کردیئے

datetime 16  جون‬‮  2017 |

بیجنگ (آئی این پی)چین اور بھارت کے مابین تاریخی تعلقات ہیں ، دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے مثبت مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کے باوجود دہلی اور بیجنگ کے مابین دوطرفہ ترقیاتی تعلقات ضروری ہیں ، دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کیلئے تعلقات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے ۔ بھارت کی بنیا سوچ کو دیکھتے ہوئے کیا چین اور بھارت کے مابین تاریخی سرحدی تنازعہ کے حل ہونے کے امکانات ہیں ۔

بھارت چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے بارے میں بھی تذبذب کا شکار دکھائی دیتا ہے ۔ نئی دہلی جنوبی بحیرہ چین کے مسئلہ پر بھی واشنگٹن اور ٹوکیو کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے ۔ بھارت نیوکلیئر سپلائر گروپ(این ایس جی) میں شمولیت پر بھی چین کی جانب سے بائیکاٹ کرنے پر اظہار ناراضگی کر چکا ہے ۔ چینی معروف روزنامہ گلوبل ٹائمز کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق نئی دہلی کا کہنا ہے کہ چین خطہ میں علاقائی حکمت عملی بھی بیجنگ کے ساتھ ترقیاتی تعلقات پر بری طرح سے اثر انداز ہورہے ہیں ، دونوں ممالک کے سربراہان ایک دوسرے سے توقع رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک مسابقت بازی اور ترقیاتی معاملات کے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نے 2014میں سوشل میڈیا ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ اگر میں نئی دہلی اور چین کے تعلقات کی تشریح کروں تو میں کہوں گا کہ نئی اور چین کے تعلقات اس صدی کے سب سے زیادہ غیر معمولی و غیر یقینی متحدہ تعاون ہو گا،دونوں ممالک کے سرحدی علاقہ میں امن وامان حالیہ برسوں میں مثالی رہے ہیں جبکہ اب نئی دہلی بیجنگ کو اپنا دشمن گردانتا ہے ۔ چین کی ایک چین پالیسی کی وجہ سے بھارت اور چین کے تعلقات میں خرابی واضح نظر آتی ہے ۔ اس کی وجہ سے اقتصادی ومعاشی تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں لیکن یہ تمام معاملات چین کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔

لیکن دونوں ممالک اس وقت مستقبل قریب میں تعلقات میں اور بہتری چاہتے ہیں اور دونوں ممالک ہی جنوبی ایشیائی ممالک سے بھی بہتر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں ۔ چین کا ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات بھارت کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور یہ تعلقات ایسے ہی ہیں جیسے مچھلی کے کانٹے کا گلے میں پھنسنا، نہ نگلا جا رہا ہوتا ہے نہ اگلا جاسکتا ہے ۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی دہلی بیجنگ اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر نے کا خواہش مند ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…