جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

قطر کا نمبربھی آگیا، امریکی فوجی اڈے پر نئے خدشات نے سِر اُٹھالیا،امریکی جریدے کی رپورٹ میں تشویشناک انکشافات

datetime 29  مئی‬‮  2017 |

دوحہ(آئی این پی)خلیجی ریاست قطر کے ساتھ پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی کے بعد قطر میں امریکی فوجی اڈے کی موجودگی پر نئے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔جریدہ نیوز ویک نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ قطر میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی خطرناک ہے۔ قطر میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی دوحہ کو دہشت گردی کی حمایت پر مبنی پالیسیاں برقرار رکھنے پر اطمینان دلانے کے مترادف ہے۔

امریکی جریدے نے حکومت کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے متنازع حلیف قطر سے دوستی میں احتیاط سے کام لے کیونکہ قطر کی پالیسی ایک ہی وقت میں دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ ہے۔ دوحہ ایک طرف دہشت گردوں سے دوستی رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف وہ مغرب کے ساتھ بھی کھڑا ہے۔نیوز ویک کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کے سابق عہدیدار جوناتھن اسکینزر اور تزویراتی تجزیہ نگارKate Haverd نے بات کرتے ہوئے کہا کہ قطر پر شام میں لڑنے والی النصرہ فرنٹ، فلسطین تنظیم حماس اور طالبان کی حمایت کا الزام ہے۔ ان الزامات کے بعد دوحہ کا کردار مشکوک ہوگیا ہے۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکی فوجی بوبرگڈال کے بدلے میں رہائی پانے والے طالبان رہنماں کے قطری حکومت کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ خیال رہے کہ طالبان کے پانچ اہم رہ نماں کو سابق امریکی صدر باراک اوباما نے گوانتا نامو جیل سے رہا کردیا تھا۔نیوز ویک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر ایک ہی وقت میں دوغلی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ وہ ایک طرف تو اسرائیل کے ساتھ سیاسی اور تجارتی روابط قائم ہوئے ہے اور دوسری طرف ایران، حزب اللہ اور القاعدہ جیسی تنظیموں کو بھی گود میں لیے ہوئے ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قطر میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی دوحہ کو دہشت گردی کی حمایت جاری رکھنے کی ترغیب دینے کے مترادف ہے۔ ایسا کرنا امریکی مفادات کے مغائر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…