جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے ساتھ جنگ،بھارتی آرمی چیف کے پہلے ہی ہوش اُڑ گئے،حیرت انگیز موقف اختیارکرلیا

datetime 28  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی(آئی این پی )بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ محدود جنگ کی توقع نہیں ہے، ہمیں مقبوضہ کشمیر میں پراکسی وار کا سامنا ہے جو ہمیشہ بری ہوتی ہے،مجھے خوشی ہوگی اگر کشمیری مظاہرین ہمیں پتھر کے بجائے گولی ماریں، فوج کا حوصلہ بلند کرنے کیلئے کشمیر ی کو جیپ کے آگے باندھنے والے آرمی افسر کو عزاز دیا۔بھارتی خبر رساں ادارے’’پی ٹی آئی ‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں

جنرل بپن راوت کا کہنا تھاکہ اگر مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مظاہرین فوج پر پتھرا کی جگہ گولیاں چلائیں گے تو مجھے خوشی ہوگی اس کے بعد میں وہ کروں گا جو میر ا دل کرے گا ۔ انکا کہنا تھاکہ جب کشمیری فوج پر پتھرا اورپیٹرول بم پھینکتے ہیں تو میں اپنے فوج کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ انتظارکرو اور مرجاؤ جبکہ فوج کا حوصلہ بلند کرنا میرا کام ہے اس لیے مقبوضہ کشمیر میں موجود فوج کا مورال بلند کرنے کے لیے کشمیر ی کو جیپ کے آگے باندھنے والے آرمی افسر کو عزاز دیا ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جامع پلان کی ضرورت ہے جس میں تمام لوگوں کو شامل کیا جائے ۔پاکستان کے ساتھ محدود جنگ کی توقع نہیں ہے۔ہمیں کشمیر میں ایک بری جنگ کا سامنا ہے ۔یہ ایک پراکسی وار ہے اور پراکسی وار گندی ہوتی ہے ۔۔اس سے قبل بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کشمیرمیں عدم استحکام پیداکرکے بھارت کوغیرمستحکم کرناچاہتاہے،کشمیرمیں اب بار باربیامنی کی اجازت نہیں دینگے،جلد مسئلہ کشمیر کامستقل حل نکال لیں گے،حل میں کشمیر،کشمیری اورکشمیریت کاخیال رکھاجائیگا،جلد مسئلہ کشمیر کامستقل حل نکال لیں گے، کشمیرمسئلے کے حل کاکوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے،تمام اسٹیک ہولڈرزسے بات کرناچاہتے ہیں لیکن بلاشرائط ہونگی۔اتوار کو بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ راجناتھ

سنگھ نے این ڈی اے حکومت کی تین سالہ کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے بی پی کی ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرکامسئلہ ہمارے لیے چیلنج ہے،جلد کشمیر کے مسئلہ کامستقل حل نکال لیں گے۔کشمیرمیں اب بار باربیامنی کی اجازت نہیں دینگے،راج ناتھ نے کہاکہ حل میں کشمیر،کشمیری اورکشمیریت کاخیال رکھاجائیگا،کشمیرمسئلے کے حل کاکوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے،تمام اسٹیک ہولڈرزسے بات کرناچاہتے ہیں لیکن بلاشرائط ہونگی۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…