جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

بس بہت ہوگیا۔۔! چین نے نے شمالی کوریا کو وارننگ دیدی

datetime 27  مئی‬‮  2017 |

ماسکو (آئی این پی) جمہوریہ کوریا پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف کارروائیاں بند کر دے ،چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین کورین جزائر کا ایٹمی مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے پرامن طورپر حل کرنا چاہتاہے ،

چین کی تجویز ہے کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور خطے کے فریقین کے مفاد میں جن میں جمہوریہ کوریا اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں حل کیا جائے ، اس تنازعہ پر فوجی طاقت کا استعمال بڑے مسائل پیدا کرے گا اور اس کے بڑے سنگین اثرات مرتب ہوں گے، چین اورروس اس اتفاق پر پہنچے ہیں کہ فوجی ذرائع کسی ملک کا بھی آپشن نہیں ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کورین جزائر کے ایٹمی مسئلے کی اصل بنیاد ہے اور بعض فریقین کواپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات ہیں جنہیں مناسب انداز میں حل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل میں بڑی رکاوٹ باہمی اعتماد کی کمی ہے، چین نے اس سلسلے میں خطے کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنے کے لئے ایک دوہرا طریقہ کار تجویز کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ پیانگ یانگ میزائلوں اور ایٹمی تجربات کو معطل کر دیا جائے ، امریکہ جنوبی کوریا فوجی مشقیں بھی معطل کر دی جائیں تا کہ اس مسئلے کا بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکالا جا سکے ۔انہوں نے جمہوریہ کوریا پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف کارروائیاں بند کر دے اور مذاکرات اور بات چیت بحالی کیلئے ضروری ماحول پیدا کرے۔دریں اثنا چینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں چین اور روس کے تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ مضبوط ہورہے ہیں ،

دونوں ممالک کے درمیان توانائی ، خلائی اور زمینی رابطوں کے شعبوں میں عملی تعاون اورترقی میں پیشرفت کی مزید کوششیں جاری ہیں ، فریقین دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں کے بارے میں بھی صلا ح مشورہ کررہے ہیں اور وہ یوریشین اقتصادی شراکت داری کے بارے میں قابل عمل مطالعہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں اپنے روسی ہم منصب سرجی لاروف کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد پریس کانفرنسسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس موقع پر بیلٹ اینڈ روڈ فورم بیجنگ کی کامیابی کا خاص طورپر ذکرکیا اور کہا کہ چین اور روس کو اس منصوبے کا اہم شراکت دار تصور کرتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس ضمن میں چین اورروس کا تعاون دونوں ملکوں کی ترقی کو فروغ دے گا اور پورے یورپین خطے کی خوشحالی اور امن میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے قبل چینی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں روسی وزیر خارجہ نے چین روس تعلقات کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی زبردست تعریف کی اور کہا کہ یہ تعلقات دوطرفہ اعتماد اور احترام کی بنیاد پر نئی بلندیوں تک پہنچ چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماسکو اور چین مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور اقوام متحدہ ،شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے فریم ورک کے تحت اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…