جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ میں پاکستانی کی انوکھی دھوکے بازی،بیٹھے بٹھائے ایک کروڑ 28 لاکھ ڈالر کمالئے،حیرت انگیزانکشافات

datetime 24  مئی‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی) امریکا کی وفاقی عدالت نے پاکستانی اور برطانوی شہریت رکھنے والے ایک شخص کو دواں کی جعلسازی کے الزام میں 6 سال قید کی سزا سنا دی۔امریکی میڈیا کے مطابق دہری شہریت رکھنے والے مصطفی حسن عارف نامی شخص نے انٹرنیٹ پر دوائیں بیچنا شروع کیں جن کے حوالے سے انہوں نے دعوی کیا تھا کہ ان دواں سے الزائمر اور ایمفیزیما جیسی بیماریوں کا بھی علاج کیا جاسکتا ہے۔

37 سالہ مصطفی حسن عارف نے اس دھوکہ بازی سے 1500 ویب سائٹ کی مدد سے اپنی دوائیں بیچ کر ایک کروڑ 28 لاکھ ڈالر کمائے ہیں (تقریبا پاکستانی 1 ارب 28 کروڑ روپے سے زائد) جبکہ دنیا بھر سے تقریبا 1 لاکھ سے زائد افراد ان کی اس جعلسازی کا شکار ہوئے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق ویب سائٹس دعوی کرتی تھیں کہ یہ ادویات سیکڑوں بیماریوں کا علاج کرے گی، حالانہ ان بیماریوں میں ایسی بھی بیماریوں کے نام شامل تھے جو اب تک لاعلاج ہیں۔دستاویزات کے مطابق، ان ادویات کے اشتہارات میں صحتیابی کے جعلی امکانات، غلط طبی ریسرچ اور جعلی اسناد دکھائی گئیں تھیں۔دھوکہ دہی کے مرتکب ہونے پر امریکی وفاقی عدالت کی جانب سے مصطفی حسن عارف کو سزا سنائی گئی۔اس موقع پر قائم مقام امریکی اٹارنی جان جے فارلے نے مصطفی حسن عارف کے جرم کو قابل مذمت قرار دیا اور ان پر ایسے بیمار اور کمزور افراد جو نا قابل علاج بیماری کا علاج ڈھونڈنے کے لیے انٹر نیٹ کا رخ کرتے ہیں انہیں نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔قائم مقام امریکی اٹارنی جان جے فارلے نے مصطفی حسن عارف کے جرم کو قابل مذمت قرار دیا اور ان پر ایسے بیمار اور کمزور افراد جو نا قابل علاج بیماری کا علاج ڈھونڈنے کے لیے انٹر نیٹ کا رخ کرتے ہیں انہیں نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ امریکی وفاقی عدالت کی جانب سے مصطفی حسن عارف کو سزا سنائی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…