جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ہمارے صدر کے ساتھ واشنگٹن میں ایسا کیوں ہوگیا؟ترکی کادلیرانہ اقدام،بڑاقدم اُٹھالیا

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

انقرہ (آئی این پی)ترک وزارت خارجہ نے صدر رجب طیب اردگان کے دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی سکیورٹی کوتاہیوں کی وضاحت طلب کر لی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی نے صدر رجب طیب اردگان کے 16 مئی کے دورہ واشنگٹن کے دوران امریکن سکیورٹی اہلکار کے رویے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔انقرہ میں امریکہ کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے موضوع سے متعلق زبانی ا ور تحریری احتجاج کیا گیا ہے۔

صدر اردگان کے ہمراہ وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کے دورہ امریکہ کے دوران ان کے حفاظتی دستے کے لئے اختیار کئے گئے، مقامی اور سفارتی اصول و ضوابط ، آداب اور پیشہ واریت کے منافی اور جارحانہ رویے کی زبانی اور تحریری شکل میں مذمت کی گئی ہے۔سفیر کو دئیے گئے احتجاجی نوٹ میں امریکی حکام سے اس واقعے کی تحقیق کرنے اور موضوع سے متعلق ضروری وضاحت دینے کا باقاعدہ مطالبہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں وزارت خارجہ کی طرف سے موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر رجب طیب اردگان کے دورہ امریکہ کے دوران پیش آنے والی یہ سکیورٹی کوتاہیاں دیگر ہر حوالے سے کامیاب رہنے والے اس اہم دورے کو متاثر نہیں کر سکیں گی۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں دونوں ممالک کے صدورکے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی ترکی نے امریکا پر واضح کیاتھا کہ شام میں تحریک کردستان کی حمایت کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی ۔ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف ترکی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اریدوان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے واضح کردیا ہے کہ کردستان تحریک کی امریکی حمایت قبول نہیں کی جائے گی۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے ساتھ تعاون ضروری ہے اور وہ امریکا کے ساتھ نئی بنیادوں پر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…