جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بشارالاسدکی حکومت کاخاتمہ ، امریکہ کے بعد ایک اوربڑی سپرپائورنے شامی صدرکی حمایت کردی

datetime 28  اپریل‬‮  2017 |

لندن (این این آئی)برطانیہ نے کہاہے کہ شامی فوج کی جانب سے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کرنے کیلئے اگر امریکا فوجی مدد کی درخواست کرے گا تو ہم ’نہ‘ نہیں کہہ سکیں گے۔برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے بعد شامی صدر کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کرے گی

اور اس کیلئے برطانیہ سے فوجی مدد طلب کی جائے گی تو برطانیہ کے لیے انکار کرنا مشکل ہوگا۔واضح رہے کہ امریکا نے شامی فوج پر رواں ماہ 4 اپریل کو ہونے والے کیمیائی حملے کا الزام عائد کیا تھا، اس کیمیائی حملے میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔کیمیائی حملے کے جواب میں امریکا نے شامی ایئرفورس کے ٹھکانوں پر کروز میزائل حملوں کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسد حکومت کی جانب سے کیے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا۔برطانیہ نے اس امریکی رد عمل کی حمایت کی تاہم وہ خود اس حملے میں براہ راست ملوث نہیں تھا۔البتہ برطانوی وزیر کے مطابق اگر امریکا کو بشارالاسد کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور کیا گیا اور امریکیوں نے ہم سے مدد چاہی تو ’نہ‘ کہنا بہت مشکل ہوجائے گا۔تاہم انہوں نے باور کروایا کہ اس قسم کے فوجی اتحاد کے لیے پارلیمنٹ سے اجازت کی ضرورت ہو سکتی ہے جبکہ اسی پارلیمنٹ نے بشار الاسد افواج کی جانب سے کی جانے والی بمباری کے خلاف ووٹ دیا تھا اور شامی فوج کو کیمیائی ہتھیار استعمال سے باز رہنے کا کہا تھا۔یاد رہے کہ شام میں ہونے والے کیمیائی حملے نے مغربی طاقتوں اور روس کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی تھی۔اور شامی فوج کو کیمیائی ہتھیار استعمال سے باز رہنے کا کہا تھا۔یاد رہے کہ شام میں ہونے والے کیمیائی حملے نے مغربی طاقتوں اور روس کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی تھی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…