جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

انتہائی تشویشناک خبر،بھارت نے پاکستان کیخلاف خطرناک قدم اُٹھالیا،کام تیزی سے جاری

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے عالمی قوانین اورسندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلاخلاف ورزی کرتے ہوئے 100ایسے ڈیموں اوردیگرمنصوبوں پرکام تیزکردیاہے جن کےلئے پاکستان کے حصے کاپانی استعمال کیاجائے گاحالانکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت پاکستان کے حصے کاپانی کسی صورت روک نہیں سکتالیکن عالمی ادارے بھی اس مسئلے کوحل کرنے کی بجائے خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے دریائے چناب پر 24 ، دریائے جہلم پر 52 اور دریائے سندھ پر 18 مزید ڈیم بنانے کی تیاریاں مکمل کرلیں اوران منصوبوں کےلئے ورلڈ بینک نے اربوں ڈالرکا قرضہ بھی جاری کر دیا ہے ۔بھارت نے اگران پانی کے ذخیروں کی تعمیرکاکام جاری رکھااورہیڈمرالہ ورکس بندکردیاتومرالہ روای لنک کینال میں پانی کی کمی سے پاکستان ایک کروڑ ایکڑزرقبے پرچاول کی کاشت نہیں کرسکے گا۔پاکستان کے حصے کے پانیوں پربھارت بگلہیارپائورپراجیکٹ کاپہلامرحلہ مکمل کرچکاہے اوریہ منصوبہ مرالہ ہیڈ ورکس سے 147 کلومیٹر اوپر بنایا گیا اور 450 میگا واٹ کا یہ پراجیکٹ 430 کیوسک پانی خرچ کر رہا ہے ۔ اسی طرح 690 میگا واٹ کا سلال پراجیکٹ بھی ہیڈ مرالہ کے 45 کلومیٹر اوپر بنایا گیا جو 14550 کیوسک پانی خرچ کر رہا ہے ۔ 780 میگاواٹ کا دُل ہستی پراجیکٹ دریائے چناب کے اوپر سے کشتواڑ کے نزدیک بنایا جو 7522 کیوسک پانی خرچ کر رہا ہے ۔ 3 میگا واٹ کا راجوڑ پراجیکٹ درہالی نالہ جو دریائے چناب کا حصہ ہے ، پر بنایا گیا ہے جو 87 کیوسک پانی استعمال کر رہا ہے۔بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف اس آبی دہشتگردی پرعالمی ادارے اوردیگرتنظیمیں جوکہ قدرتی ماحول پرکام کررہے ہیں وہ مجرمانہ طورپرخاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق بھارت یہ منصوبے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بنارکھاہے جبکہ پاکستان میں ابھی تک کالاباغ ڈیم کی تعمیررکی ہوئی ہے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…