اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کے متعددعلاقوں میں ہفتے کے دن بھی چھٹی ہوتی ہے ،جانتے ہیں اسرائیل میں ہفتے کے دن چھٹی کیوں کی جاتی ہے؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 24  اپریل‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی) اسرائیلی عبرانی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے ہفتے کے دن کی چھٹی ختم کرنے اور ہفتے کو کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینے پر مذہبی جماعتوں پر مشتمل حکومت ایک نئی مشکل سے دوچار ہوگئی ہے۔اسرائیل عبرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے ہفتے کے دن کاروبار مراکز کھلے رکھنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد اسرائیل کے مذہبی حلقوں

میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہودی مذہبی حلقے اور مذہبی سیاسی جماعتیں ’ہفتہ‘ کے دن کو اہمیت دیتے ہیں اور اس روز سرکاری اور نجی شعبے میں عام تعطیل کی جاتی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے ایک طرف مذہبی یہودیوں کو مشتعل کیا ہے اور دوسری طرف حکومت کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے مذہبی فرقوں ’حریدیہ‘ اور مرکزی مذہبی تنظیموں کی طرف سے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر غور کیلئے حکومت کا ہنگامی اجلاس بلائیں۔یہودی مذہبی گروپوں نے وزیراعظم کو لکھے اپنے مکتوب میں ہفتے کے دن کاروباری مراکز کھلے رکھنے کی اجازت دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ہفتے کے دن سپر مارکیٹ کو کھلا رکھنے اور کمپنیوں کو چھٹی نہ کرنے کی اجازت دینا یہودیوں کی مذہبی روایات کیخلاف ہے۔ یہودی گروپوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجودہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ موجودہ آئین اور قانون کے تحت یہودیوں کو ہفتے کے روز کسی قسم کی کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاتی۔اسرائیل کے وزیر داخلہ ارییہ درعی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہفتہ مقدس اور یہودی قوم کے تشخص کی نفی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلد اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرنیوالے مذہبی رہ نماؤں سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرونگا، سرائیلی وزیر صحت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ یہودی مذہبی روایات اور اصولوں سے صریح انحراف ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…