جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قذافی نے عراق پر امریکی حملے کے بعدصدام حسین کیلئے کیا کچھ کرتے رہے ؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 23  اپریل‬‮  2017 |

طرابلس/بغداد(آئی این پی)لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمراں مقتول معمر قذافی نے عراق کے سابق مرد آہن صدام حسین کو بغداد سے اسمگل کرنے کے لیے امریکیوں کو رشوت کی پیش کش کی تھی۔عرب میڈیا کے مطابق اس بات کا انکشاف صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عراق کی خصوصی عدالت کے اعلی جج منیر حداد نے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ان جج صاحب ہی نے 2006 میں سابق صدر کو سزائے

موت سنائی تھی۔انھوں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ امریکیوں نے صدام حسین کی پھانسی کو 144 روز تک موخر کرنے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے بتایا کہ (سابق) عراقی صدر جلال طالبانی نے صدام حسین کو تختہ دار پر لٹکانے کی منظوری دی تھی لیکن انھیں سزائے موت میں ترمیم یا اس کو موخر کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا کیونکہ بین الاقوامی عدالت کے قواعد انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔واضح رہے کہ صدام حسین کو 30 دسمبر 2006 کو عید الاضحی کے پہلے روز پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔اس پر عراقی حکومت اور امریکا پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔جج منیر حداد نے العربیہ سے گفتگو میں اس حوالے سے ایک اور نیا انکشاف کیا ہے۔انھوں کہا کہ عراقی قانون کے تحت کسی مجرم کو عید کے موقع پر پھانسی دینے کی اجازت نہیں ہے لیکن تب ان (ججوں ،عراقی حکومت) کی یہ رائے تھی کہ صدام حسین جیل سے فرار ہوسکتے تھے۔انھوں نے کہا کہ صدام حسین کا ٹرائل عمومی طور پر آزادانہ تھا۔جج جوڈیشیل کونسل کے نامزد تھے اور سابق صدر کے مقدمے کی سماعت کرنے والوں میں 35 بعثی(سابق حکمراں بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والے) جج بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان جج صاحب نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ سابق رجیم کو شریک کار کرنے کی وجہ سے موجودہ رجیم میں بہت سے خلاف ورزیاں بھی کی گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…