جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی حکمران آنگ سوچی کا حیران کن موقف سامنے آ گیا

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

نیپی دیا(مانیٹرنگ ڈیسک) امن کی نوبل انعام یافتہ میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ریاست راکھنی میں کارروائیوں کو نسل کشی کا نام دینا غیرمناسب ہوگا تاہم آپریشن کے نتیجے میں پڑوسی ملک جانے والے لوگوں کو کھلے ہاتھوں قبول کیا جائے گا۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپ نے راکھنی

ریاست میں فوج کے کریک ڈاؤن کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا تاہم آنگ سان سوچی نے سیکیورٹی فورسز کا دفاع کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ راکھنی ریاست میں کچھ مسائل ہیں لیکن انہیں نسل کشی کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ راکھنی میں لوگوں کی آپس میں دشمنیاں ہیں جس کی وجہ سے اکثریت مسلمانوں کی ہلاک ہوئی تاہم اب وہاں کے لوگ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…