بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی حکمران آنگ سوچی کا حیران کن موقف سامنے آ گیا

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

نیپی دیا(مانیٹرنگ ڈیسک) امن کی نوبل انعام یافتہ میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ریاست راکھنی میں کارروائیوں کو نسل کشی کا نام دینا غیرمناسب ہوگا تاہم آپریشن کے نتیجے میں پڑوسی ملک جانے والے لوگوں کو کھلے ہاتھوں قبول کیا جائے گا۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپ نے راکھنی

ریاست میں فوج کے کریک ڈاؤن کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا تاہم آنگ سان سوچی نے سیکیورٹی فورسز کا دفاع کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ راکھنی ریاست میں کچھ مسائل ہیں لیکن انہیں نسل کشی کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ راکھنی میں لوگوں کی آپس میں دشمنیاں ہیں جس کی وجہ سے اکثریت مسلمانوں کی ہلاک ہوئی تاہم اب وہاں کے لوگ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…