جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے ایرانی شہری کو گرفتارکرلیا،چینی شہریوں کے ساتھ ملکرکیا کررہاتھا؟ حیرت انگیزدعویٰ

datetime 6  اپریل‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی )امریکا کی وفاقی پولیس نے دارالحکومت واشنگٹن سے ایران کومیزائل ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابقمریکا کی وفاقی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے دارالحکومت واشنگٹن سے ایک مشتبہ ایرانی سہولت کار کوحراست میں لیا ہے جس پر منی لانڈرنگ اور ممنوعہ میزائل ٹیکنالوجی ایران کو فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

امریکی پولیس نے گرفتار مشتبہ ایرانی کی شناخت قباد قاسم بور کے نام سے کی ہے۔ اس کے پاس ایران اور کینیڈا دونوں کی شہریت بتائی جاتی ہے۔کینیڈین پریس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کیمطابق قباد قاسم بور نے اپنے دوستوں اور والد کے ساتھ مل کر امریکا میں کئی جعلی کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ ان جعلی کمپنیوں کے توسط سے وہ منی لانڈرنگ اور ایرانی رجیم کو حساس میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرتا رہا ہے۔امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایرانی شہری کو کئی سال کی چھان بین کے بعد حراست میں لیا ہے۔ گرفتار شخص ایران کو رقوم فراہم کرنے اور ممنوعی میزائل ٹیکنالوجی تہران تک پہنچانے کا مرکزی منصوبہ ساز ہے۔رپورٹ کے مطابق قاسم بور اپنے دو دیگر ساتھیوں کی مدد سے ممنوعہ ٹیکنالوجی چین کے راستے ایران پہنچاتا رہا ہے۔ اس نے ایران کو مختلف ذرائع سے ملٹری نیویگیشن آلات اور دیگر ممنوعہ سامان فراہم کیا۔ اس نے منی لانڈرنگ کے کاروبار اور ممنوعہ اشیا کی ایران منتقلی کے لیے کئی جعلی کمپنیاں بھی قائم کر رکھی تھیں۔ ان جعلی کمپنیوں کی فرضی سربراہی چینی باشندوں کو سونپی گئی تھی۔خیال رہے کہ تین فروری کو امریکی وزارت خزانہ نے 13 ایرانی شخصیات اور 12 کمپنیوں کو ایران سے لین دین کے الزام میں بلیک لسٹ کردیا تھا۔ ان پر بھی ایران کو میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی معاونت کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…