بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اور چین کی بڑی کامیابی۔۔کس پراجیکٹ کو کشمیر میں شامل کر لیا گیا؟

datetime 20  مارچ‬‮  2017 |

نیویارک (آن لائن) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مون بیلٹ ون روڈ ، پروجیکٹ کے تحت آزاد کشمیر میں سلک روڈ، اکنامک بیلٹ اکیسویں صدی شاہراہ ریشم اور علاقائی منصوبوں کی توثیق کی ہے جبکہ پروجیکٹ کی توثیق بھارت کے لئے باعث تشویش بن گئی ۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے چین کیجانب سے پیش کی گئی ایک قرار داد کی منظوری دی ہے جس میں افغانستان میں یو این مشن کے

مینڈیٹ میں اتفاق رائے سے ایک سال کی توسیع کی گئی جبکہ بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے مذکورہ قرار داد کے ذریعے چین کے ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ کی بھی توثیق کی گئی جس میں آزاد کشمیر بھی شامل ہے ۔ قرار داد میں دی بیلٹ اینڈ روڈ اور دیگر علاقائی ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی کوششیں مزید تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے قرار داد میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امن و مفاہمت کے فروغ ، افغان حکومت کی امداد ، انسانی حقوق کی نگرانی اور فروغ ، شہریوں کے تحفظ اور بہتر طرز حکومت پر توجہ دی جائے گی ۔ قرار داد میں علاقاء معاسی تعاون ، علاقائی روابط ، تجارت ، سلک روڈ اکنامک بیلٹ ، اکیسویں صدی شاہراہ ریشم اور علاقائی ترقی کے منصوبوں کی توثیق کی گئی اور باہمی روابط بڑھانے پر زور دیا گیا ۔ چائنہ ریڈیو کے مطابق قرار دا کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب لایو جائی پی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال چینی صدر شی جن پنگ نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے انسانی برادری کی تعمیر کے تصور کا فارمولا پیش کیا اس بار منظور کردہ قرار داد میں پہلی بار عالمی سطح پر چین کے اس تصور کی توثیق کی گئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے تصور نے عالمی انتظامیہ کو متاثر کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ قرار داد میں دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر پر بھی زور دیا گیا ہے اور اس کی

تعمیر میں سلامتی کی ضمانت سمیت تفصیلی مطالبے بھی پیش کئے گئے ہیں اس سے بیجنگ میں منعقدہ دی بیلٹ اینڈ روڈ کے عالمی تعاون کی سربراہی کانفرنس کے لئے سازگار ماحول پیدا ہو گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…