منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

جنرل قمر باجوہ وہ کون ساکام کررہے ہیں جوپہلے کسی فوجی سربراہ نے نہیں کیا،امریکی جنرل کے انکشافات

datetime 10  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک) جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان عسکری گروپوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی ہے جن کے خلاف کارروائی سے سابقہ فوجی سربراہان گریز کرتے آئے ہیں۔ ووٹل نے یہ بات امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے وقت گزشتہ روز کہی۔ ان کے بقول افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکلسن کی گزشتہ دنوں
سرحد پر چند آپریشنر میں پاکستانی فوج نے معاونت کی تھی۔

کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے اسے درست سمت میں ایک پیش رفت قرار دیا۔امریکی جنرل کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں مزید مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرے اور اس مخصوص علاقے پر توجہ دے۔ بیرون ملک امریکی فوجی کارروائیوں کے کمانڈر جنرل ووٹل نے کہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا کر نے کیلئے بھارت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ رابطوں اور مذاکرات میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، پاک بھارت کشیدگی ایٹمی جنگ میں بدل سکتی ہے،بھارتی پالیسی دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید خرابی کا باعث بن رہی ہے، پاکستان اپنی مشرقی سرحد پر بھارت سے مسلسل الجھنے کے باعث اپنی مغربی سرحد پر پوری توجہ نہیں دے پارہا ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی میں منتخب نمائندگان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سیٹکوم)کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے کہا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا کرنے کیلیے بھارت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ رابطوں اور مذاکرات میں رکاوٹ ڈال رہا ہے دونوں کے درمیان کشیدگی دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔جنرل جوزف ووٹل نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی کو خبردار کیا کہ روایتی پاک بھارت کشیدگی

میں مسلسل اضافہ دونوں ملکوں کے درمیان نیوکلیائی ہتھیاروں کے تبادلے یعنی ایٹمی جنگ کی وجہ بن سکتا ہے۔ووٹل نے کہا کہ پاک افغان افواج آپس میں بہترتعاون کررہی ہیں لیکن پاکستان اپنی مشرقی سرحد پر بھارت سے مسلسل الجھنے کے باعث اپنی مغربی سرحد پر پوری توجہ نہیں دے پارہا جو افغانستان سے ملتی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پر ووٹل کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر اس وقت بھی کم از کم 20 دہشت گرد گروپ سرگرمِ عمل ہیں جن میں سے 13 گروپ افغانستان سے آپریٹ کررہے ہیں۔

بھارتی پالیسی دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید خرابی کا باعث بن رہی ہے ،افغانستان کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی جارہی ہیامریکی مرکزی قوتوں کے کمانڈر جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کو بڑھانے سمیت نئی حکمت عملی تیار کرنے کی کاروائیاں جاری ہیں ۔انھوں نے امریکہ کے افریقی قوتوں کے کمانڈر والڈ ہاوسر کیساتھ مسلح خدمات کی کمیٹی میں مشرق وسطی اور افریقی کاروائیوں کے بارے میں سینٹرز کے سوالات کے جواب دئیے ۔

انھوں نے اس سوال کہ کیا 15 سال بعد افغانستان میں ایک دلدل میں پھنسنے کے معاملے میں آپ ہمارے ہم فکر ہیں کا جواب مثبت میں دیا اور کہا کہ ہم ایک نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں اور اس معاملے میں ہم وزیر دفاع اور متعلقہ وزرا کے ساتھ صلاح مشورے کر رہے ہیں ۔ اس وقت افغانستان میں 8400 امریکی فوجی اور 5 ہزار نیٹو کے فوجی فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ان کے علاوہ امریکہ کے لوجسٹک اور دیکھ بھال میں مدد گار ثابت ہونے والے 10 ہزار کے قریب کنٹریکٹ پر رکھے گئے اہلکار بھی موجود ہیں ۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…