اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

سات سالہ ’’بانا العابد‘‘ کا ٹرمپ سے انوکھا سوال۔۔۔۔ویڈیو نے آنکھیں نم کر دیں

datetime 4  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آپ نے کبھی 24گھنٹوں تک بنا کھانا اور پانی کے زندگی گذاری ہے،سات سالہ شامی بچی بانا العابدکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھے گئے سوال نے ہر کسی کی آنکھ نم کر دی۔ تفصیلات کے مطابق شام کے شہر حلب سے متواتر ٹوئٹس کرتے ہوئے ت

وجہ کا مرکز بننے والی 7سالہ شامی لڑکی بانا العابد کی نئی ویڈیو سامنے آئی ہے کہ جس میں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال کرتی ہے کہ کیاآپ نے کبھی 24گھنٹوں تک بنا کھانا اور پانی کے زندگی گزاری ۔ویڈیو دیکھنے والے افراد کی آنکھوں میں بانا العابد کے انداز اور سوال نےنمی بھر دی۔بانا کے ٹوئٹ کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممالک پر پابندی کا مقصد خراب لوگوں کو اپنے ملک سے باہر نکالنا ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ٹرمپ نے سات مسلم ممالک سمیت شام کے پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔ٹرمپ کے حکم نامے کے فوری بعد بانا نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ معزز ٹرمپ پناہ گزینوں پر پابندی عائد کرنا غلط بات ہے ، ہاں اگر صحیح ہے تو میرا پاس آپ کے لئے ایک تجویز ہے کہ دیگر ممالک کو پرامن بنائیں۔یاد رہے کہ سات سالہ شامی معصوم بچی بانا جو اس وقت بین الاقوامی سطح پر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی ۔بانا نے ٹوئٹر کے ذریعہ شام کے شہر حلب میں جاری جنگ کاالمناک منظر پیش کیا تھا۔بانا العابد اپنی ماں فاطمہ کی مدد سے شام کے شہر حلب سے جنگ کے دوران جذباتی ٹوئٹس کرتی رہی ہیں اور اس کے ٹوئٹر پر 000 366فالووورز ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…