اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بھارتی فوجی نے اپنی فوج کا ہی دنیا بھر میں منہ کالا کردیا،سوشل میڈیاپر جاری ویڈیو دیکھ کر ہر کوئی حیرت زدہ

datetime 9  جنوری‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)خطے میں چودھراہٹ کے دعویدار اور پاکستان کو سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکیاں دینے والے بھارت کو سرحد پر تعینات اپنے فوجیوں کو کھانے کے لالے پڑ گئے،بی ایس ایف کے اہلکار نے فوجی راشن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے بھارتی فوج کا پول کھول دیا۔بھارتی اخبار ’’ انڈین ایکسپریس ‘‘کی رپورٹ کے مطابق بارڈر سیکیورٹی فورس(بی ایس ایف) کے ایک فوجی تیج بہادر یادیو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک وڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے سرحد پر جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے والے فوجیوں کو ملنے والے ناقص اور ناکافی کھانے کا تذکرہ کیا ہے۔تیج بہادر یادیو کا کہنا ہے کہ ‘بھوکے پیٹ کیا خاک جنگ لڑیں، ناشتے میں جلا ہوا پراٹھا اور ایک کپ چائے ملتی ہے’۔بھارتی فوجی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ‘جو بھی راشن فوجیوں کے کھانے کے لیے آتا ہے اسے بازاروں میں فروخت کردیا جاتا ہے’۔فوجی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ دوپہر میں صرف 2 روٹیاں ملتی ہیں، کھانے میں مصالحے اور گھی کے بغیر بنی دال ملتی ہے’۔ تیج بہادر نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات تو فوجی جوان خالی پیٹ ہی سوجاتے ہیں۔

وڈیو میں فوجی اہلکار کہہ رہا ہے کہ اسے سرکار سے کوئی شکایت نہیں کیوں کہ حکومت سب کچھ بھیجتی ہے لیکن اعلی حکام اسے بیچ کر کھا جاتے ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔فیس بک پر شیئر کی گئی اس بھارتی فوجی کی وڈیو جس میں اس نے بھارتی حکومت کے دعووں کو بے نقاب کیا، اسے اب تک لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی ہے۔فوجی جوان کی یہ وڈیو سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی حکومت اور فوج پر تنقید شروع کردی اور فوج کے اندر ہونے والی کرپشن پر نئی بحث چھڑ گئی۔

بھارتی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تعینات اس فوجی کی وڈیو سامنے آنے کے بعد بی ایس ایف نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔بی ایس ایف کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ جموں میں بی ایس ایف کے ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل رینک کے افسر کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور انہیں معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔اخبار کے مطابق ترجمان نے تصدیق کی کہ فوجی جوان کانسٹیبل تیج بہادر یادیو بی ایس ایف کا اہلکار ہے جو راجوری سیکٹر میں تعینات ہے۔ترجمان کے مطابق تیج بہادر کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب حکام نے یادیو کے فیس بک پیج اور وڈیوز کے حقیقی ہونے کی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…