منگل‬‮ ، 06 جنوری‬‮ 2026 

بھارتی فوجی نے اپنی فوج کا ہی دنیا بھر میں منہ کالا کردیا،سوشل میڈیاپر جاری ویڈیو دیکھ کر ہر کوئی حیرت زدہ

datetime 9  جنوری‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)خطے میں چودھراہٹ کے دعویدار اور پاکستان کو سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکیاں دینے والے بھارت کو سرحد پر تعینات اپنے فوجیوں کو کھانے کے لالے پڑ گئے،بی ایس ایف کے اہلکار نے فوجی راشن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے بھارتی فوج کا پول کھول دیا۔بھارتی اخبار ’’ انڈین ایکسپریس ‘‘کی رپورٹ کے مطابق بارڈر سیکیورٹی فورس(بی ایس ایف) کے ایک فوجی تیج بہادر یادیو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک وڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے سرحد پر جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے والے فوجیوں کو ملنے والے ناقص اور ناکافی کھانے کا تذکرہ کیا ہے۔تیج بہادر یادیو کا کہنا ہے کہ ‘بھوکے پیٹ کیا خاک جنگ لڑیں، ناشتے میں جلا ہوا پراٹھا اور ایک کپ چائے ملتی ہے’۔بھارتی فوجی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ‘جو بھی راشن فوجیوں کے کھانے کے لیے آتا ہے اسے بازاروں میں فروخت کردیا جاتا ہے’۔فوجی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ دوپہر میں صرف 2 روٹیاں ملتی ہیں، کھانے میں مصالحے اور گھی کے بغیر بنی دال ملتی ہے’۔ تیج بہادر نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات تو فوجی جوان خالی پیٹ ہی سوجاتے ہیں۔

وڈیو میں فوجی اہلکار کہہ رہا ہے کہ اسے سرکار سے کوئی شکایت نہیں کیوں کہ حکومت سب کچھ بھیجتی ہے لیکن اعلی حکام اسے بیچ کر کھا جاتے ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔فیس بک پر شیئر کی گئی اس بھارتی فوجی کی وڈیو جس میں اس نے بھارتی حکومت کے دعووں کو بے نقاب کیا، اسے اب تک لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی ہے۔فوجی جوان کی یہ وڈیو سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی حکومت اور فوج پر تنقید شروع کردی اور فوج کے اندر ہونے والی کرپشن پر نئی بحث چھڑ گئی۔

بھارتی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تعینات اس فوجی کی وڈیو سامنے آنے کے بعد بی ایس ایف نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔بی ایس ایف کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ جموں میں بی ایس ایف کے ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل رینک کے افسر کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور انہیں معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔اخبار کے مطابق ترجمان نے تصدیق کی کہ فوجی جوان کانسٹیبل تیج بہادر یادیو بی ایس ایف کا اہلکار ہے جو راجوری سیکٹر میں تعینات ہے۔ترجمان کے مطابق تیج بہادر کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب حکام نے یادیو کے فیس بک پیج اور وڈیوز کے حقیقی ہونے کی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…