بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانی بندر گاہ گوادر سے تجارتی آپریشن شروع ہونے سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات مزید مضبوط ہو جائیں گے ، چین کے شمال مغربی خود علاقے سنکیانگ یغور اور پاکستان کی جنوب مغربی گوادر بندرگاہ کو ملانے والا اقتصادی راہداری منصوبہ پہلے کنٹینر قافلے کی روانگی کے بعد ایک حقیقت بن چکا ہے ، پاکستان جنوبی مغربی ایشیاء ، چین اور سینٹرل ایشیاء میں اپنے جغرافیائی محل وقوع کے حوالے سے بڑی دفاعی اور تجارتی اہمیت رکھتا ہے اور اس میں ترقی کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ جو تین سال قبل شروع ہونیوالے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا پہلا حصہ ہے نے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور چین پاکستان طویل المیعاد سماجی اور اقتصادی شراکت داری میں کردار کے حوالے سے اپنے نمایاں نتائج دینا شروع کر دیئے ہیں ، پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ اقتصادی راہداری منصوبے کی تعمیر کے طفیل بڑی تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اس سے چین اور پاکستان کے سماجی اور اقتصادی تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
یہ بات یہاں سرکاری حکام نے بتائی ہے ، اپریل 2016ء میں قراقرم ہائی وے کے پاکستانی سیکشن پر تعمیر اور اپ گریڈنگ کا کام شروع ہوا تھا ، مئی میں پشاور کراچی ایکسپریس وے (سکھر ملتان سیکشن ) کی تعمیر پر کام شروع ہو گیا جو کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کا سب سے بڑ ا منصوبہ ہے۔دریں اثنا شور کورٹ سے خانیوال ایم فور ہائی وے کے چونسٹھ کلو میٹر طویل منصوبے پر اگست میں کام شروع کیا گیا ، یہ پاکستان کا پہلا ہائی منصوبہ ہے جو ایشین انفراسٹرکچر بنک کے مالی تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔
دوسری جانب روس نے بھی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں یورایشین اکنامک یونین کو بھی شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس نے مودی سرکار کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔روس کی پاک چین اقتصادی راہداری میں بڑھتی دلچسپی اور پاکستان کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات نے بھارتی حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں، بھارت خطے میں اپنے استحکام اورمفادات کے حصول کے لیے پریشانی کا شکار ہوگیا ہے۔
پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے اور تجارت کے فروغ کے لیے اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع کیا گیا جو نہ صرف رابطے مضبوط بنا رہا ہے بلکہ خطے میں پاکستان کے ایک اور دوست کو منظرعام پر لایا جو کھل کر سی پیک کی حمایت کر رہا ہے۔روس نے سی پیک کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہوئے اب یہ اعلان کیا ہے کہ وہ چاہتا ہے سی پیک میں یورایشین اکنامک یونین بھی شامل ہو جائے، 2015 میں بنائے گئے اس تجارتی فورم میں روس، بیلاروس، قازکستان اور ارمینیا سمیت کرغزستان شامل ہیں۔
روس کی سی پیک میں شامل ہونے کی خواہش نے مودی سرکار کی نیندیں اڑا دی ہیں اور بھارتی حکام روس کی پاکستان کے منصوبے میں گہری دلچسپی پر پریشان ہیں، انہیں یہ فکر ستانے لگی ہے کہ روس اب بھارت کو قابل اعتماد دوست نہیں سمجھتا اور بنیادی مفادات کو چیلنج کر رہا ہے اس صورتحال نے بھارت کی بوکھلاہٹ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
سی پیک منصوبے کے ثمرات سامنے آنا شروع کامیابیوں سے مودی سرکار کے پسینے چھوٹ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ونڈر بوائے
-
سوزوکی نے اپنی مشہورزمانہ گاڑی پربڑی آفر لگا دی
-
پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق حکومت کا اہم فیصلہ ، نوٹیفکیشن جاری
-
750 روپے کے پرائز بانڈز رکھنے والے لکھ پتی بن گئے
-
این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ، شدید سردی اور برفباری کی لہر کا امکان
-
ہمارا جہاز، طیارہ اوریونٹ کہاں ہے پاکستان کو سب پتہ تھا، بھارتی آرمی چیف کا اعتراف
-
بارش برسانے والا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا، پنجاب میں بارش کا کتنا امکان؟
-
عمرہ پر جانے والوں کیلئے خوشخبری
-
بھائیوں کے سامنے بہن اغوا، بااثر زمیندار کی ڈیرے پر لے جاکر لڑکی کیساتھ زیادتی
-
فضائی روٹس بند،پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا نیا نوٹم جاری
-
وزیراعلیٰ مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل
-
چار ہزار سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ، ایف آئی اے نے بڑا فیصلہ کرلیا
-
پاکستان بھر میں کل 15 جنوری کو انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا خدشہ
-
پیٹرول کتنے روپے سستا ہونے والا ہے؟ پاکستانی عوام کے لیے بڑی خبر















































