منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغان فوج کو امریکہ بلانا امریکیوں کو بہت مہنگا پڑ گیا،ایسا کام کردکھایا کہ گورے سِر پکڑ کر بیٹھ گئے

datetime 7  اکتوبر‬‮  2016 |

واشنگٹن (این این آئی)تربیت کیلئے امریکا جانے والے درجنوں افغان فوجی غائب ہوگئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تربیت کے لیے امریکا جانے والے 44 فوجی اہلکار گزشتہ دو برسوں میں وہاں غائب ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون حکام کے مطابق قیاس یہی ہے کہ یہ فوجی غیر قانونی طور پر امریکا میں رہنے اور وہاں کام کرنے کے لیے غائب ہوئے۔ 2007 سے اب تک قریب 2,200 افغان فوجیوں نے امریکا میں تربیت حاصل کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجیوں کے غائب ہونے کے واقعات کے بعد اس پروگرام کے طریقہ کار اور اس کے لیے درکار سکیورٹی سکریننگ سے متعلق سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے امریکہ کا موقف بالکل تبدیل نہیں ہوا، واشنگٹن کی خواہش ہے کہ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کم ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات ہوں، پاکستان کے اثاثے بالکل محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور پاکستان مخالف کسی بل کا علم نہیں ۔جمعہ کو ترجمان امریکی محکمہ خارجہ جان کربی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پر امید ہے کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے موثر انتظام کر رکھا ہے اور پاکستان کے ایٹمی اثاثے بالکل محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے امریکہکا موقف بالکل تبدیل نہیں ہوا، واشنگٹن کی خواہش ہے کہ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کم ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات ہوں۔ کانگریس میں پاکستان کے خلاف بل کے حوالے سے جان کربی کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے کسی بل کا علم نہیں ہے تاہم خطے میں دہشت گردی تمام ممالک کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے اور ہم اس کے لیے پاکستان اور افغانستان اور خطے کی دیگر حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے تاکہ ان مشترکہ خطرات کا مل کر مقابلہ کیا جاسکے۔ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی سلامتی کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہے۔ اسلام آباد کے ایٹمی اثاثے کسی بھی صورت میں دہشتگردوں کے ہاتھ نہیں لگ سکتے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے پاک بھارت افواج پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے سے مذاکرات جاری رکھیں۔ پنٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم اس بات سے واقف ہیں کہ پاکستانی اور ہندوستانی افواج ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور ہم دونوں ملکوں کے درمیان ان مذاکرات کے جاری رہنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، تاکہ کشیدگی کو ختم کیا جاسکے۔ ہم مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس بات کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے کہ یہ مذاکرات جاری رہیں۔پیٹر کک نے کہا کہ پینٹاگون سمیت امریکی انتظامیہ کے مختلف ادارے پاکستان اور بھارت سے روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔دونوں ملکوں میں مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ کشیدگی کو ختم کیا جاسکے، پیٹر کک نے کہا کہ سیکریٹری ایشن کارٹر اور امریکی حکومت کو امید ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے اور یہاں بھی مذاکرات کے ذریعے سے دونوں ملکوں کے تحفظات دور کرنے کے حوالے سے کوشش کی جائے گی۔
موضوعات:امریکہ پاکستانی ایٹمی اثاثے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…