جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

’’پاکستانی چھا گئے ‘‘ سعودی شہزادے سے مہنگی ترین کیا چیز خرید ی ؟جان ہوش اڑ جائینگے

datetime 3  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانی نژاد امریکی تاجر نے سعودی شہزادے کا مہنگا ترین ہوٹل خرید لیا ،سودا 22 کروڑ 50 لاکھ کینیڈین ڈالر میں طے پایا ، مالیت 17 ارب 80 کروڑ پاکستانی روپے لے لگ بھگ بنتی ہےپاکستانی نڑاد امریکی تاجر شاہد خان کی کمپنی نے سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال سے دنیا کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں سے ایک خرید لیا اور یہ سودا 22 کروڑ 50 لاکھ کینیڈین ڈالر میں طے پایا ہے جس کی مالیت 17 ارب 80 کروڑ پاکستانی روپے لے لگ بھگ بنتی ہے۔پاکستان میں پیدا ہونے والے امریکی تاجر شاہد خان فلیکس این گیٹ آٹو پارٹس کمپنی کے مالک اور انگلش پریمیئر لیگ کلب فلہیم کے مالک بھی ہیں اور اب انہوں نے سعودی ارب پتی شہزادے ولید بن طلال سے قیمتی ہوٹل خرید لیا۔ شاہ سعود کی کنگڈم ہولڈنگ کمپنی کے مطابق چار سال قبل یہ ہوٹل 20 کروڑ کینیڈین ڈالر میں خریدا گیا تھا اور اس عرصے میں ایک کروڑ 70 لاکھ کینیڈین ڈالر کا منافع بھی کمایا گیا۔ اس ہوٹل کا نام فور سیزن ہے جو کینیڈا میں ہے جسے دنیا کے مشہور ترین ہوٹلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔۔

یہ خبر بھی پڑھیں:

کبوتروں کے بارے میں نئی حیران کن تحقیق۔۔۔ ایسا کارنامہ کر سکتے ہیں کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے
اگرچہ کبوتر ہمیشہ سے بھوسے اور فرنچ فرائز کے درمیان فرق نہیں جانتے تھے، لیکن وہ ایک دوسرے کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اب انہیں گرے ہوئے رہنمائوں سے متعلق خبریں پڑھنے کے قابل ہونا چاہیے۔ معروف سائنسی جریدے، پاپولر سائنس کے مطابق، پی این اے ایس میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کبوتر کی الفاظ کو پہچاننے کی صلاحیت سے زبان کے نقطہ آغاز کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ بتدریج تربیت کے ذریعے پرندوں نے مختلف اشکال کو پہچاننا اور الفاظ سیکھے۔ آٹھ ماہ تک جاری رہنے والے اس تربیتی عمل کے دوران چار کبوتروں کو چار حرفی الفاظ کو غیر مستعمل الفاظ سے فرق کرنا سکھایا گیا۔ یہ کبوتر صحیح ہجے اور غلط ہجے والے الفاظ کے درمیان فرق بتانے کے قابل تھے۔ جیسا کہ very اور very۔ اس تحقیق کے مصنفین نے لکھا ہے کہ اس اعتبار سے ’’ کبوتروں کی کارکردگی بن مانس کے مقابلے میں ایک تعلیم یافتہ شخص سے زیادہ موازنے کے قابل ہوتی ہے۔‘‘ اس تجربے کے آخر میں کبوتروں نے 26اور 58 الفاظ کے درمیان تمیز کرنا سیکھا، جن میں ’’ورلڈ‘‘ یا ’’ڈومینیشن‘‘ جیسے الفاظ شامل نہیں تھے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…