اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بھارتی جنگی جنون دم پر پائوں پڑا تو جلتی پر تیل کا کام کرنے والے بھارتی میڈیا نے اپنے ہی دیش کا اصلی چہرہ بےنقاب کردیا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 22  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت میں اڑی سیکٹر پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں آگ میں تیل کا کردار ادا کرنے والے بھارتی میڈیا نے بالآخر خود ہی اپنی غلطیوں کا کچا چٹھا کھولنا شروع کر دیا۔ بھارتی فوج کے ریٹائرڈ اعلٰی افسران نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیے ۔
تفصیلات کے مطابق موقر ترین بھارتی جریدے ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ایک بہت بڑا سوال اٹھایا گیا ہے کہ اڑی حملہ میں 18 فوجیوں کو ہلاک کرنے والوں کو حملے دوسرے ہی روز دفنا کیوں دیا گیا؟

اس رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا بھارت نے اس معاملے میں جلدی نہیں کی؟اور کیا وجہ ہے کہ اس معاملے پر لاشوں کو بغیر کسی قسم کے معائنے اور تحقیقات کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور فوری طور پر اڑی فوجی کیمپ کے قریب ہی ایک قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

بھارتی ائیر فورس کے ریٹائرڈ ائیر وائس مارشل کپل کاک نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے اس معاملے میں جلدی کی گئی ہے جو سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھا رہی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ دہشت گرد پاکستان سے تھے تو ان کو دفنانے میں اتنی جلدی کیوں کی گئی ۔ ثبوت کے لئے لاشیں رکھنا ضروری اور کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق ضروری ہے۔۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ماضی میں ہونے والے ممبئی حملوں کے ملزمان کو ایک سال تک سرد خانے میں جبکہ پٹھان کوٹ کے ملزمان کی لاشوں کو ایک ہفتے تک سردخانے میں رکھا گیا تھا۔

بھارتی فوجی حکام کی جانب سے یہ بہانہ بنایا گیا کہ لاشیں خراب ہو رہی تھیں جبکہ مقامی افراد کی جانب سے لاشوں کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا تھا۔

دوسری جانب بھارتی وزیر دفاع نے بھی کہا ہے کہ ہو سکتا ہے اس معاملے پر غلطی ہوئی ہو مگر اس بات کو یقینی بنایا جائے گاکہ آئندہ ایسی کوئی غلطی نہ ہو۔ پاکستان وہ اڑی حملے کی تحقیقات میں بھارت کی مدد کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…