منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

’’بھارت کو تاریخ کا سب سے بڑا جھٹکا‘‘ وہ کام ہو گیا جو آج تک پوری دنیا میں کبھی نہیں ہوا!!

datetime 17  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )ہندوستان کی ریاست ارونا چل پر دیش میں ایک بار پھر کانگریس کو زبردست جھٹکا لگا ہے جہاں وزیراعلی دیگر بیالیس ممبران اسمبلی کے ہمراہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی آف ارونا چل(پی پی اے ) میں شامل ہوگئے ہیں،ارونا چل پردیش کی 60 رکنی اسمبلی میں کانگریس کے 44 ارکان ہیں جن میں سے 43 نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے علاقائی جماعت پیپلزپارٹی آف اروناچل میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق پی پی اے کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت حاصل ہے ، اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے11 ممبران ہیں۔ واضح رہے کہ دومہینے قبل ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کانگریس کو ریاست میں دوبارہ حکومت ملی تھی، اس سے قبل مرکز کی سفارش پر ریاست میں صدر راج نافذ کردیا تھا جس کو کانگریس نے بغاوت اور جمہوریت کا قتل قراردیا تھا۔ اروناچل پردیش کے وزیراعلی پیما کھانڈو نے کہا ہے کہ انہوں نے گورنر سے ملاقات کرکے یہ بتا دیا ہے کہ اب وہ اور ان کے ساتھی ممبران کانگریس کے نہیں بلکہ پی پی اے کا حصہ ہیں اور ہم نے خود کو پی پی اے میں ضم کرلیا ہے۔
وزیراعلی کھانڈو کا کہنا تھا کہ اب لوگ ریاست میں حکومت کو پی پی اے کی حکومت کے طور پر دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کانگریس کی ریاستی حکومت کو پی پی اے کی حکومت میں تبدیل کردیا ہے۔دوسری طرف داخلی امور کے وزیر مملکت اور اروناچل پردیش سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کرن رحیجو نے اس بڑی سیاسی قلابازی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس بلا وجہ بی جے پی پر الزام لگاتی ہے لیکن اب اروناچل میں کانگریس کی حکومت ہی نہیں رہی ، کیونکہ تمام ممبران اسمبلی ایک علاقائی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔کرن نے مزید کہا کہ اگرا راکین اسمبلی ہی کانگریس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ نے کانگریس حکومت کو بحال بھی کیا ، لیکن آخر میں اراکین اسمبلی کا فیصلہ ہی حتمی تصور ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…