اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’بھارت کو تاریخ کا سب سے بڑا جھٹکا‘‘ وہ کام ہو گیا جو آج تک پوری دنیا میں کبھی نہیں ہوا!!

datetime 17  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )ہندوستان کی ریاست ارونا چل پر دیش میں ایک بار پھر کانگریس کو زبردست جھٹکا لگا ہے جہاں وزیراعلی دیگر بیالیس ممبران اسمبلی کے ہمراہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی آف ارونا چل(پی پی اے ) میں شامل ہوگئے ہیں،ارونا چل پردیش کی 60 رکنی اسمبلی میں کانگریس کے 44 ارکان ہیں جن میں سے 43 نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے علاقائی جماعت پیپلزپارٹی آف اروناچل میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق پی پی اے کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت حاصل ہے ، اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے11 ممبران ہیں۔ واضح رہے کہ دومہینے قبل ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کانگریس کو ریاست میں دوبارہ حکومت ملی تھی، اس سے قبل مرکز کی سفارش پر ریاست میں صدر راج نافذ کردیا تھا جس کو کانگریس نے بغاوت اور جمہوریت کا قتل قراردیا تھا۔ اروناچل پردیش کے وزیراعلی پیما کھانڈو نے کہا ہے کہ انہوں نے گورنر سے ملاقات کرکے یہ بتا دیا ہے کہ اب وہ اور ان کے ساتھی ممبران کانگریس کے نہیں بلکہ پی پی اے کا حصہ ہیں اور ہم نے خود کو پی پی اے میں ضم کرلیا ہے۔
وزیراعلی کھانڈو کا کہنا تھا کہ اب لوگ ریاست میں حکومت کو پی پی اے کی حکومت کے طور پر دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کانگریس کی ریاستی حکومت کو پی پی اے کی حکومت میں تبدیل کردیا ہے۔دوسری طرف داخلی امور کے وزیر مملکت اور اروناچل پردیش سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کرن رحیجو نے اس بڑی سیاسی قلابازی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس بلا وجہ بی جے پی پر الزام لگاتی ہے لیکن اب اروناچل میں کانگریس کی حکومت ہی نہیں رہی ، کیونکہ تمام ممبران اسمبلی ایک علاقائی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔کرن نے مزید کہا کہ اگرا راکین اسمبلی ہی کانگریس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ نے کانگریس حکومت کو بحال بھی کیا ، لیکن آخر میں اراکین اسمبلی کا فیصلہ ہی حتمی تصور ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…