جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

’’بھارت کو تاریخ کا سب سے بڑا جھٹکا‘‘ وہ کام ہو گیا جو آج تک پوری دنیا میں کبھی نہیں ہوا!!

datetime 17  ستمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )ہندوستان کی ریاست ارونا چل پر دیش میں ایک بار پھر کانگریس کو زبردست جھٹکا لگا ہے جہاں وزیراعلی دیگر بیالیس ممبران اسمبلی کے ہمراہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی آف ارونا چل(پی پی اے ) میں شامل ہوگئے ہیں،ارونا چل پردیش کی 60 رکنی اسمبلی میں کانگریس کے 44 ارکان ہیں جن میں سے 43 نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے علاقائی جماعت پیپلزپارٹی آف اروناچل میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق پی پی اے کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت حاصل ہے ، اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے11 ممبران ہیں۔ واضح رہے کہ دومہینے قبل ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کانگریس کو ریاست میں دوبارہ حکومت ملی تھی، اس سے قبل مرکز کی سفارش پر ریاست میں صدر راج نافذ کردیا تھا جس کو کانگریس نے بغاوت اور جمہوریت کا قتل قراردیا تھا۔ اروناچل پردیش کے وزیراعلی پیما کھانڈو نے کہا ہے کہ انہوں نے گورنر سے ملاقات کرکے یہ بتا دیا ہے کہ اب وہ اور ان کے ساتھی ممبران کانگریس کے نہیں بلکہ پی پی اے کا حصہ ہیں اور ہم نے خود کو پی پی اے میں ضم کرلیا ہے۔
وزیراعلی کھانڈو کا کہنا تھا کہ اب لوگ ریاست میں حکومت کو پی پی اے کی حکومت کے طور پر دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کانگریس کی ریاستی حکومت کو پی پی اے کی حکومت میں تبدیل کردیا ہے۔دوسری طرف داخلی امور کے وزیر مملکت اور اروناچل پردیش سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کرن رحیجو نے اس بڑی سیاسی قلابازی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس بلا وجہ بی جے پی پر الزام لگاتی ہے لیکن اب اروناچل میں کانگریس کی حکومت ہی نہیں رہی ، کیونکہ تمام ممبران اسمبلی ایک علاقائی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔کرن نے مزید کہا کہ اگرا راکین اسمبلی ہی کانگریس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ نے کانگریس حکومت کو بحال بھی کیا ، لیکن آخر میں اراکین اسمبلی کا فیصلہ ہی حتمی تصور ہوتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…