ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

صومالیہ، صدارتی محل کے قریب خودکش حملہ، 22افراد ہلاک ،وفاقی وزیر اور صحافیوں سمیت50 زخمی

datetime 31  اگست‬‮  2016 |

موغا دیشو (آئی این پی) صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں صدارتی محل کے قریب خودکش حملے میں فوجیوں سمیت 22افراد ہلاک اور 50 سے زائدزخمی ہو گئے جبکہ 2ہوٹل بھی تباہ ہوگئے ،شدت پسند تنظیم الشباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق موغادیشو میں دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی صدارتی محل کے گیٹ کے قریب لا کردھماکے سے اڑادی، دھماکے سے صدارتی محل کی مین چیک پوسٹ کے قریب واقع دو ہوٹلوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ۔دھماکا اس وقت کیا گیا جب صبح کے وقت علاقے میں شدید ٹریفک جام تھا۔وزیر اطلاعات محمد عبدی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دھماکے کے وقت ایس وائے ایل ہوٹل میں سیکیورٹی حکام کی میٹنگ جاری تھی اور دھماکے کے باعث ایک وفاقی وزیر اور حکومتی ریڈیو کے بعض صحافی بھی زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں جنہیں فوری طور پرموغادیشو کے مدینہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ہوٹل حکومتی ارکان سے بھرارہتے ہیں اور حملے کا مقصد بھی حکومتی ارکان کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے ، دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم الشباب نے قبول کر لی ہے۔
دوسری جانب عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی جبکہ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ دور دور تک اس کی آواز سنی گئی ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد دھویں کے سیاہ بادل صدارتی محل کے کمپانڈ کے اوپر بھی دیکھے گئے ۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارود سے بھری گاڑی کو صدارتی محل کی جانب بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی مگر دہشت گرد نے صدارتی محل کی چیک پوسٹ کے قریب دھماکا کر دیا ۔دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔شدت پسند تنظیم الشباب نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبو ل کرلی ہے ۔تنظیم نے گزشتہ ہفتے بھی ایک مشہور ریسٹورنٹ میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 10افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…