منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

پاک افغان سرحد ،بالاخر وہ فیصلہ کرہی لیاگیا جو بہت پہلے کرلیناچاہئے تھا

datetime 25  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہ اہے کہ پاک افغان سرحد کی سیکیورٹی کو مزید سخت بنایا جائے گا اور کسی بھی شخص کو بغیر دستاویزات کے ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینٹ کمیٹی برائے خارجہ امور و دفاع کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے گا اور منیجمنٹ کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ کسی بھی شخص کو دستاویزات کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے بتایا کہ افغان بارڈر کے 4 مقامات پر گیٹ تبدیل کئے جارہے ہیں ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے افغان حکومت کی جانب سے تلخ اور سخت بیانات آئے تاہم ہم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا افغانستان میں موجود طالبان کا ایک گروہ مذاکرات کا حامی ہوتا ہے تو دوسرا مخالفت شروع کردیتا ہے۔پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ 4 سو سے زائد عبوری راستے موجود ہیں لیکن اجلاس میں صرف 4 سرحدی راستوں پر سیکیورٹی اور منیجمنٹ کو مؤثر بنانے کی بات کی جارہی ہے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ واضح کیا جائے کہ اسامہ اور ملااختر منصور کو پاسپورٹ کس نے جاری کئے نامور دہشت گردوں کی پاکستان میں قیام یا آمد سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ جیسے ہم بھی دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہاکہ افغان حکومت کو بتادیا ہے کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات میں پنہاں ہے فوجی کارروائی سے مسئلوں کے حل نہیں نکلتے پاکستان کی جانب سے مفاہمتی عمل جاری رہے گا کیوں کہ افغانستان اور پاکستان میں قیام امن کا واحد راستہ بات چیت ہے اور ہماری امریکا اور چین سے بھی اپیل ہے کہ وہ ثالثی کا کردار ادار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو یقینی بنائے۔اعزاز چوہدری نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری اس مفاہمتی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کا سامنا کمزوری سے نہیں بلکہ طاقت سے کرنا ہوگا۔ سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کو محفوظ بنایا جائے گا جس کا فائدہ ناصرف پاکستان بلکہ افغانستان کو بھی ہوگا۔اجلاس میں دفاعی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 60 لاکھ افغان باشندوں کو اپنے پاس مہمان رکھا ہوا ہے لیکن افغان حکومت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف غیرذمہ دارانہ بیانات دیئے۔ دفاعی حکام نے بتایا کہ افغان سرحد پر ایف کی 5 بٹالین سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں جبکہ ہماری 6 چیک پوسٹوں کے مقابلے میں افغانستان کی صرف 1 چیک پوسٹ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…