جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی ادارہ مہاجرت (آئی ایم او)نے کہاہے کہ رواں برس کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مہاجرت اختیار کرنے والے تین ہزار چار سو افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے،اس عرصے میں یورپ پہنچنے کی خاطر اسّی فیصد مہاجرین نے سمندری راستہ اختیار کیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے حوالے سے بتایا کہ 2016 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران دستیاب معلومات کے مطابق مجموعی طور پر چونتیس سو مہاجرین اور تارکین وطن یا تو ہلاک ہو گئے یا پھر لاپتہ۔گزشتہ برس کے پہلے پانچ ماہ کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ رواں برس اس عرصے کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس ایسے مہاجرین کی تعداد دو ہزار سات سو اسی ریکارڈ کی گئی تھی۔آئی او ایم کی طرف سے گزشتہ روز جاری کردہ ان معلومات کے مطابق گزشتہ برس کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہونے والے ایسے افراد کی مجموعی تعداد 54 سو رہی تھی۔آئی او ایم کی طرف سے عالمی سطح پر مہاجرت سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے شعبے کے ڈائریکٹر فرانک لاچکوکا کہنا تھا کہ شمالی افریقہ سے اٹلی کا سمندری راستہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔برلن میں تعینات لاچکو نے کہا کہ اسی روٹ پر سفر کے دوران سب سے زیادہ مہاجرین ہلاک یا لاپتہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس تناظر میں فوری اقدامات کرنے چاہییں۔لاچکو نے بحیرہ روم کے سمندری راستے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف اپریل کے آخری ہفتے کے دوران ہی نو مختلف حادثات کے نتیجے میں کم از کم گیارہ سو مہاجرین ہلاک ہوئے تھے۔ شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے کے لیے مہاجرین اور تارکین وطن غیر محفوظ کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں، جنہیں آئے روز ہی حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لاچکو کے مطابق اگرچہ ان کی ٹیم مختلف اداروں سے مل کر ان اعداد و شمار کو انتہائی محنت کے ساتھ جمع کر رہی ہے لیکن ان کے مصدقہ ہونے سے متعلق شکوک بہرحال موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے واقعات میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے افراد کی درست تعداد کا علم ہو ہی نہیں سکتا۔آئی او ایم نے حکومتوں پر زور دیا کہ لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کی کوششوں میں بہتری لائی جائے کیونکہ ایسے افراد کے رشتہ داروں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، جو یہ تک نہیں جانتے کہ ان کے پیارے کہاں گم ہو گئے ہیں۔آئی ایم او کے ترجمان لیونارڈ ڈوئل کے بقول ایک مہاجر جب موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، تو اس سے وابستہ تقریبا بیس انسان بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر واقعات میں مرنے والے تارکین وطن کی لاشیں بھی برآمد نہیں کی جا سکتیں۔عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق گزشتہ بیس برسوں کے دوران تقریبا? ساٹھ ہزار افراد مہاجرت کے خطرناک سفر کے دوران ہلاک ہو چکے ہی
پہلے پانچ ماہ کے دوران مہاجرت اختیار کرنے والے 3400 افراد ہلاک ،لاپتہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
2025 میں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین نے گوگل پر سب سے زیادہ کیا تلاش کیا؟ گوگل نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
-
ایزی پیسہ کا بڑا سرپرائز،صارفین کے لیے ناقابل یقین سہولت
-
بابا وانگا کی 2026 کیلئے کی جانیوالی بڑی پیشگوئیاں
-
امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ
-
2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں با رے اہم خبر
-
نجی ہاؤسنگ سکیم کا بڑا اسکینڈل،دستاویزات جعلی،عوام پریشان
-
پنجاب حکومت نے 9سرکاری محکمے ختم کردیئے،نوٹیفکیشن جاری
-
راولپنڈی، غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون کو قطر سے پاکستان لا کر قتل کر دیا گیا
-
ہونڈا نے سوک کے نئے ماڈلز کی تعارفی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
سال کے پہلے دن سونا سستا، قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
-
سابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر مارشل نور خان کی بیٹی ٹریفک حادثے میں جاں بحق
-
وفاقی آئینی عدالت کا سپریم کورٹ کو پہلا حکم جاری
-
سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے حکومت کا بڑا فیصلہ
-
ملکی کی تاریخ میں پہلی بار ناقابل برآمد گرے گورال کا شکار















































