جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

مسلمانوں سے نفرت، ڈونلڈ ٹرمپ پر لگام ڈالنے کی تیاریاں مکمل، فیصلہ ہو گیا

datetime 17  مئی‬‮  2016 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا میں صدارتی دوڑ میں شامل ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمان مخالف اور نسل پرستانہ نوعیت کے بیانات سے خود امریکا میں بھی سخت بے چینی پائی جا رہی ہے۔ حال ہی میں امریکی کانگریس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز طرز عمل سے روکنے اور صدر بننے سے قبل انہیں نکیل ڈالنے کے لیے قانون سازی کی کوششیں شروع کی گئی ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق کانگریس کے اراکین کے ایک گروپ نے ڈیموکریٹس کے رکن ڈون پائر کی سربراہی میں ایوان میں مسودہ قانون پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کانگریس امریکی عہدیداروں کو ملک میں مذہبی بنیادوں پر کسی گروپ کے داخل ہونے کی مخالفت سے روکے۔یہ مسودہ قانون ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ری پبلیکن پارٹی کے متنازع سمجھے جانے والے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار اپنی تقاریر میں کہا کہ صدر منتخب ہو کر وہ عارضی طور پر امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عاید کریں گے۔ ان کے اس بیان سے امریکا اور مغربی ملکوں میں بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مذہبی آزادیوں کے عنوان سے تیار کردہ مسودہ قانون کی حمایت میں اب تک ڈیموکریٹک پارٹی کے 100 جب کہ ری پبلیکن کے ایک رکن نے دستخط کیے ہیں۔۔ اس مسودہ قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امریکی قانون مذہبی بنیادوں پر کسی طبقے کے لوگوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لہٰذا کانگریس امریکی عہدیداروں کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ مذہب، مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر کسی طبقے کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے اقدامات سے سختی سے منع کرے۔کانگریس میں پیش کردہ اس بل کو امریکا کے مسلمان، عیسائی، یہودی اور دیگر ادیان کے سرکردہ مذہبی رہ نماو¿ں کی بھی حمایت حاصل ہے۔مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے رکن کانگریس ڈون پائر کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی طبقے کے خلاف امتیازی سلوک کے خلاف جنگ کریں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم امریکا میں نسلی امتیاز کے خاتمے کی موثر کوششیں کریں اور مزید انتظار سے قبل ان کوششوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔بعض امریکی ماہرین قانون کا کہنا تھا کہ کانگریس میں مذہبی آزادیوں سے متعلق ایک نیا بل پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ امریکی قانون پہلے مذہبی آزادیوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ تاہم ماہرین یہ مانتے ہیں کہ مذہبی آزادیوں اور غیرملکیوں کے حوالے سے قانون پرعمل درآمد کم ہی کیا جاتا ہے مگرامریکا ان بین الاقوامی معاہدوں کا پابند ہے جن میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر کسی طبقے سے امتیازی سلوک کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…