جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

وینزویلا، بجلی بچانے کے لیے سرکاری دفاتر میں کام کا دورانیہ ہفتے میں صرف دو دن کر دیا گیا

datetime 27  اپریل‬‮  2016 |

کرا کس(نیوزڈیسک )وینزویلا میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سرکاری دفاتر میں کام کا دورانیہ ہفتے میں پانچ دن سے کم کر کے صرف دو دن کر دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی قلت کے دوران اس عارضی اقدام سے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ملک کے نائب صدر نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین ہفتے میں دو دن یعنی پیر اور منگل کو دفتر آئیں گے۔ وینزویلا کو بدترین خشک سالی کا سامنا ہے جس کے سبب ڈیموں میں پانی سطح کم ہونے سے بجلی کی پیدوار متاثر ہوئی ہے لیکن حزبِ اختلاف نے اس معاملے میں حکومت پر بدانتظامی کا الزام عائد کیا ہے۔ہفتے میں دو دن کام کرنے کے فیصلے سے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد متاثر ہوں گے۔نائب صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’سرکاری دفاتر میں بدھ جمعرات اور جمعے کو بہت اہم اور بنیادی اہداف کے علاوہ کام نہیں ہوگا۔‘ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیےنے حکومت نے پہلے ہی گھڑیاں آگے کر دی گئی تھیں۔ رواں سال فروری میں شاپنگ سینٹرز کے اوقاتِ کار میں کمی کر دی گئی تھی اور انھیں کہا گیا تھا کہ وہ خود اپنی بجلی پیدا کریں۔اس ہفتے کے آغاز میں حکومت نے بجلی کی طلب کم کرنے کے لیے گھڑیاں آدھا گھنٹہ آگے کر دی تھی جبکہ گذشتہ ہفتے حکومت نے یومیہ چار گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ملک کے صدر نکولیس مودیرو نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی آل نینو سے ا±ن کا ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بارشیں معمول کے مطابق ہونے پر حالات بہتر ہو جائیں گے۔وینیزویلا میں کاروباری حضرات، حزبِ مخالف کے سیاست دان کا الزام ہے کہ ملک میں بجلی کے بحران کی وجہ حکومت کی اقتصادی بدانتظامی ہے۔ا±ن کا کہنا ہے کہ سنہ 2003 میں ملکی کرنسی کی قدر کو کنٹرول رکھنے کی پالیسی سے اقتصادیات کو بہت نقصان ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے وینیزویلا کی معیشت متاثر ہوئی ہے کیونکہ ا±ن کی بیشتر درآمدات پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…