منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

ترکی کی جانب سے گرائے جانیوالے تباہ شدہ روسی طیارے کا بلیک باکس کھل گیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2015 |

ماسکو (نیوزڈیسک)روسی ماہرین نے شام اور ترکی کی سرحد پر مار گرائے گئے اپنے لڑاکا طیارے کا بلیک باکس کھول دیا ہے۔اس موقع پر برطانیہ ،چین اور بھارت کے ماہرین اور فوجی اتاشی بھی موجود تھے۔روسی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرگئی ڈرونوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو نے چودہ ممالک کو ایس یو 24 لڑاکا طیارے کے بلیک باکس کے جائزے کے لیے اپنے ماہرین بھیجنے کی دعوت دی تھی لیکن صرف برطانوی اور چینی ماہرین نے بلیک باکس کے ڈیٹا کا جائزہ لینےسے اتفاق کیا ہے۔روسی ٹیلی ویڑن نے جمعہ کے روز بلیک باکس کو کھولنے کے عمل کی ایک گھنٹے کی طویل براہ راست نشریات دکھائی ہیں۔ان میں لیبارٹری میں روسی انجینیر ڈیٹا ریکارڈر کی مختلف پرتیں کھول رہے ہیں۔اس موقع پر برطانوی اور چینی ماہرین نظر آرہے ہیں جبکہ برطانیہ ،چین اور بھارت کے فوجی اتاشی ایک براہ راست لنک کے ذریعے صحافیوں کے ساتھ اس تمام عمل کو ملا حظہ کررہے ہیں۔ڈرونوف کا کہنا ہے کہ ریکارڈر کا ڈیٹا سوموار کو جاری کیا جائے گا۔روس کا بالاصرار کہنا ہے کہ بلیک باکس کے ڈیٹا سے اس کے اس مو¿قف کی تصدیق ہوجائے گی کہ اس بمبار طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ ترکی نے 24 نومبر کو روس کے اس لڑاکا ایس یو 24 کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا تھا۔یہ طیارہ 17 سیکنڈز تک ترکی کی فضائی حدود میں رہا تھا لیکن روس کا یہ اصرار رہا ہے کہ اس کا لڑاکا طیارہ ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا تھا۔ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے اس پر اپنی فضائی حدود میں میزائل داغے تھے جس کے بعد اس کا ملبہ شام کے سرحدی علاقے میں گرا تھا اور روسی اور شامی فورسز نے اس کے مبلے کو باغیوں کے زیر قبضہ شمالی علاقے سے برآمد کر لیا تھا۔اس واقعے میں روس کا ایک پائیلٹ اور ایک میرین ہلاک ہوگیا تھا۔اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سخت کشیدہ ہوچکے ہیں اور روس نے اس کے ردعمل میں ترکی پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے جمعرات کو اس لڑاکا طیارے کو مار گرانے پر ترکی کے خلاف ایک اور تند وتیز بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ”اب ترکی کے ساتھ کشیدگی پر قابو پانا عملی طور پر ناممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…