پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

یوکرائن عالمی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کا نیامیدان بن گیا،قوام متحدہ کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 10  دسمبر‬‮  2015 |

نیویارک(نیوزڈیسک)یوکرائن عالمی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کا نیامیدان بن گیا،قوام متحدہ کے سنسنی خیز انکشافات،اقوام متحدہ نے کہاہے کہ مشرقی یوکرائن میں غیر ملکی اسلحے کی ترسیل کے ساتھ فائٹرز کی آمد بھی جاری ہے یوکرائنی تنازعے میں ہلاک شدگان کی تعداد نو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق مشرقی یوکرائن کے بارے میں اقوام متحدہ کی بدھ کے روز جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی اسلحے کی ترسیل کے ساتھ غیر ملکی فائٹرز کی باغیوں کے زیرِ تسلط علاقوں میں داخل ہونے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اِس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ بیس ماہ کے دوران اِس مسلح تنازعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو ہزار ایک سو ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاکتیں، ٹارچر اور لاقانونیت اِس متنازعہ علاقے پر چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق رواں برس اگست میں نئی جنگ بندی سے مسلح اور جارحانہ کارروائیوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ تشدد کے عمل میں کمی کی بنیادی وجہ اگلے محاذوں سے یوکرائنی فوج اور روس نواز باغیوں کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کا انخلا ہے۔ رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مشرقی یوکرائن کے روس نواز باغیوں کے علاقے میں اسلحے کی ترسیل جاری ہے اور رشیئن فیڈریشن کے علاقوں سے فائٹرز بھی باغیوں کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یوکرائن کی حکومت کا روسی سرحد کے ساتھ جڑے مشرقی حصے کے کئی علاقوں پر مو¿ثر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے باغیوں کی جانب اسلحے کی ترسیل میں تسلسل پایا جاتا ہے۔ روس نواز باغیوں اور یوکرائنی فوج کے درمیان مسلح تصادم اپریل 2014 میں شروع ہوا تھا۔ اِس دوران کمزور فائر بندیوں کا عمل بھی جاری رہا لیکن ستمبر کے مہینے سے دوطرفہ جارحیت میں کمی ضرور دیکھی گئی تاہم حکومتی فوج اور باغیوں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اِس فائرنگ کے تبادلے میں فریقین کی جانیں بھی تواتر کے ساتھ ضائع ہو رہی ہیں۔مشرقی یوکرائنی تنازعے میں ہونے والی نو ہزار سے زائد ہلاکتوں میں نصف سویلین ہیں۔ سویلین ہلاکتوں کا اندازہ اِس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ رواں برس وسطِ اگست سے اختتامِ نومبر تک فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے 131 افراد میں سینتالیس عام شہری تھے۔ سویلین ہلاکتوں کی وجہ بارودی سرنگیں بھی خیال کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرقی یوکرائن کے شورش زدہ علاقے میں تقریباً انتیس لاکھ افراد بستے ہیں۔ مسلح تنازعے سے ان کو صحت کی معیاری سہولتیں میسر نہیں رہی اور وہ سماجی سروسز اور ا±ن کے فوائد سے محروم ہیں۔ رپورٹ مرتب کرتے وقت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے تفتیش کاروں نے دستاویزی ثبوت بھی اپنی رپورٹ کے ساتھ شامل کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…