منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

”یہ سب کچھ سعودی عرب نے روک رکھاہے “

datetime 9  دسمبر‬‮  2015 |
JEDDAH, Saudi Arabia - OCTOBER 13: German Foreign Minister Frank-Walter Steinmeier (not pictured) meets Saudi Crown Prince and defense minister Salman bin Abdulaziz al-Saud in Jeddah on October 13, 2014 in Jeddah, Saudi Arabia.(Photo by Thomas Imo/Photothek via Getty Images)

پیرس (نیوزڈیسک) دنیا بھر کے سائنسدان، ماحولیاتی ماہرین، سیاستدان اور حکومتوں کے سربراہان فرانس میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں کسی پائیدارمعاہدے پر پہنچنے کی کوشش میں ہیں تاکہ دنیا کو گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تباہی جیسے خطرات سے بچایا جاسکے۔ اخبار دی گارڈین کا کہنا ہے کہ اس انتہائی اہم موقع پر سعودی عرب پر الزام لگ گیا ہے کہ یہ ملک دنیا کی سلامتی کے لئے ضروری معاہدے کی ر اہ میں رکاوٹ بن کرکھڑا ہے۔ اخبار کے مطابق متعدد ترقی پذیر ممالک کے وفود اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنے مفادات کی خاطر عالمی معاہدہ برائے تحفظ ماحولیات کو ممکن نہیں ہونے دے رہا۔سعودی عرب دنیا کو تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور ماحولیاتی آلودگی میں اس کا بھی ایک بڑا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو نوشتہ دیوار نظر آرہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں اس کی تیل کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہوں گی جس کی وجہ سے یہ ملک فوسل فیول کے خلاف ہونے والے کسی بھی اقدام کی حمایت کرنے کو تیار نہیں۔تیل کے شعبہ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں بجلی کی تقریباً تمام پیداوار تیل سے کی جاتی ہے جبکہ روشنیاں، ائیرکنڈیشنر اور دیگر برقی آلات بھی بڑے پیمانے پر اور بلا تعطل استعمال کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، جبکہ تیل کی بھاری مقدار کی پیداوار اور دنیا بھر میں اس کے استعمال کے اثرات بھی براہ راست ماحول پر مرتب ہورہے ہیں۔دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مملکت ماحولیاتی تحفظ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے جبکہ یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا جائے اور 2050ءتک مملکت میں کاربن کے اخراج پر مکمل قابو پالیا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…