پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سعودی شاہی خاند ان میں پھوٹ پڑگئی ،شاہ سلمان کےخلاف ایک بڑی خاندانی سازش بے نقاب

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |
JEDDAH, Saudi Arabia - OCTOBER 13: German Foreign Minister Frank-Walter Steinmeier (not pictured) meets Saudi Crown Prince and defense minister Salman bin Abdulaziz al-Saud in Jeddah on October 13, 2014 in Jeddah, Saudi Arabia.(Photo by Thomas Imo/Photothek via Getty Images)

ریاض(نیوزڈیسک)شاہی خاندان کے ایک فرد کی جانب سے قلمبند کیا گیا ایک مبینہ خط شاہی خاندان میں گردش کر رہا ہے جس میں موجودہ حکومت سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط چار صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آل سعود کی طاقت کو بہت جلد زوال کا خدشہ ہے، خط میں اپیل کی گئی ہے کہ اس معاملے پر شاہی خاندان کی ایک میٹنگ بلائی جائے تا کہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ موجودہ شاہ سلمان اور ان کے صاحبزادے و ولی عہد محمد بن سلمان کو بر طرف کر کے ان کی جگہ نئے فرمانروا کو مقرر کیا جا ئے۔ ایک یورپی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق خط مبینہ طور پر مرحوم سعودی فرمانروا کے نواسے کی جانب سے لکھا گیا ہے جس نے منفی پروپیگنڈے کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔79 سالہ سعودی فرمانروا نے شاہ عبد اللہ کی وفات کے بعد سعودی عرب کی حکمرانی سنبھالی، خط میں شاہ سلمان کے بھتیجے محمد بن النائف کو فضول خرچ قرار دیتے ہوئے یمن حملوں اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔مذکورہ خط شاہی خاندان میں موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے گردش کیا جا رہاہے جس میں خلیجی مماک کو درپیش معاشی چیلنجز کا بھی ذکر کیا گیا، سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے دورہ امریکہ کے دوران تیل کی قیمتوں اور اس سے حاصل ہونے والے زر مبادلہ میں کمی کے باوجود ایک مکمل ساحل کے ب±ک کروانے اور واشنگٹن میں ایک پورا لگڑری ہوٹل ب±ک کروایا گیا جس پر ایک اندازے کے مطابق کئی ملین ڈالر لاگت آئی۔ خط میں شاہی خاندان کے فرد نے ولی عہد محمد بن سلمان کو انتہائی نامناسب الفاظ بھی کہہ ڈالے، خط کے متن میں یہ بات بھی کہی گئی کہ،’رقم کی فضول خرچی اور فوج کو درپیش خطرات سے تب تک نہیں نمٹا جا سکتا جب تک ہم اپنے فیصلے کرنے کے طریقوں کو نہیں بدلیں گے‘ سعودی عرب کی حکومت کی بنیاد شاہ عبد العزیز1932 میں رکھی جسے 1953 میں ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں ابن سعود نے آگے بڑھایا۔ ان بیٹوں میں موجود ہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بھی شامل ہیں



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…