برسلز(نیوزڈیسک)یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کو رکن ممالک میں آباد کرنے سے متعلق ایک منصوبے کو اکثریتی رائے سے منظور کر لیا ہے۔اس منصوبے کے تحت آئندہ دو سالوں کے دوران ان مہاجرین کو مختلف یورپی ممالک میں ایک کوٹے کے تحت آباد کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت یونان، اٹلی اور ہنگری میں موجود ایسے مہاجرین، جن کو بین الاقوامی سطح پر حقیقی تحفظ کی ضرورت ہے، کو یورپی یونین کے رکن مختلف ممالک میں پناہ دی جائے گی۔یورپی یونین کے مطابق ابتدائی طور پر پناہ کے متلاشی افراد کی رجسٹریشن کا کام ہنگری، یونان اور اٹلی میں کیا جائے گا جبکہ اس دوران شام، عراق اور اریٹریا کے باشندوں کو ترجیح دی جائے گی۔ برسلز میں منعقد ہونے والی ای یو وزرائے داخلہ کی ایک ہنگامی ملاقات میں اس اہم منصوبے پر اتفاق رائے کو مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے یورپی رہنما اس معاملے پر اختلافات کا شکار تھے۔ تاہم منگل کو ہونے والی میٹنگ میں یورپی یونین رکن ممالک کے وزرائے داخلہ آخر کار ایک مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق رائے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک لکسمبرگ کی طرف سے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا گیا کہ یورپی یونین رکن ممالک نے ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کی منصافانہ تقسیم کے حوالے سے اکثریت رائے سے اتفاق کر لیا گیا ہے۔ چیک جمہوریہ کے وزیر داخلہ نے ایک علیحدہ ٹویٹ میں لکھاکہ چیک ری پبلک، سلوواکیہ، رومانیہ اور ہنگری نے اس قرار داد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ فن لینڈ نے اپنی رائے محفوظ رکھی۔ لیکن اس منصوبے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ ہنگری کی سربراہی میں یہ تینوں ممالک یورپی کمیشن کے اس منصوبے کی سخت مخالفت کر رہے تھے۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ برسلز کے پاس ایسے حقوق نہیں کہ وہ انہیں ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے زور دے سکے۔ چیک ری پبلک، سلوواکیہ، رومانیہ اور ہنگری کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ان ممالک کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ سلوواکیہ کے وزیر اعظم نے تو اس کوٹہ سسٹم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ایک سفارتکار کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ برسلز میں منگل کو لیا گیا یہ فیصلہ دراصل زیادہ تر ممالک کی رضا مندی کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یورپی کمیشن ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کی آباد کاری کے اس منصوبے پر تمام اٹھائیس رکن ممالک کی مشترکہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔یورپی یونین کے دو طاقتور ممالک جرمنی اور فرانس کے حمایت یافتہ اس منصوبے پر گزشتہ ہفتے بھی مذاکرات کیے گئے تھے۔ لیکن تب یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ منگل کے دن اس منصوبے پر ووٹنگ کی گئی، جس سے زیادہ تر ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دے کر اسے منظور کر لیا۔یورپی یونین کے قوانین کے مطابق کامیاب ووٹنگ کے بعد اب مخالفت کے باوجود تمام رکن ممالک کا اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا لازمی ہو گا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ اس بحران کے تناطر میں بدھ کے روز یورپی یونین کے لیڈران کا سربراہ اجلاس بھی منعقد کیا جا رہے ہے۔ دوسری طرف یورپ میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
یورپی یونین نے مہاجرین کیلئے خوشی کی خبر سنادی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دنیا کے طاقتور اور کمزور پاسپورٹس کی فہرست جاری، سنگاپور کا پہلا نمبر، پاکستان کی حیرت انگیز پوزیشن
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
چودھری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں پر بول پڑے
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
-
راولپنڈی،خاتون سے زیادتی کرنے اور نومولود بچی کو اغوا کرنے والا ہوٹل منیجر گرفتار، بچی بازیاب
-
پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن اور تجدید کیلئے نئی شرائط عائد
-
سونے کے بعد چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں بڑی کمی
-
راولپنڈی سے بھارتی شہری گرفتار، پاکستانی کرنسی بھی برآمد
-
چینی کمپنی ’’ہان گینگ ٹریڈ کمپنی‘‘ کاپاکستان میں اپنا پلانٹ بند کرنے کا اعلان
-
پہلی سے پانچویں جماعت تک نیا تعلیمی نصاب نافذ کرنے کا فیصلہ
-
1500 روپے مالیت کا پرائز بانڈ رکھنے والے افراد کے لیے بڑی خبر آگئی



















































