منگل‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2026 

جمہوریت اس کو کہتے ہیں۔۔ آسٹریلیا نے مثال قائم کردی

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

سڈنی (نیوزڈیسک)آسٹریلیا میں وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے اپنی جماعت کی قیادت کا انتخاب ہارنے کے بعد اب ملک میں ایک نئے وزیر اعظم کا انتخاب متوقع ہے۔ٹونی ایبٹ کو انہی کی جماعت کے سینیئر رہنما مالکم ٹرن بل نے دائیں بازو کی مرکزی جماعت لبرل پارٹی کے رہنما کے عہدے کے لیے چیلنج کیا تھا جس میں ٹونی ایبٹ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔عجلت میں منعقد کیے گئے قیادت کے انتخاب میں ٹونی ایبٹ کو ک44 ووٹ پڑے جبکہ ان کے مدِ مقابل ٹرن بل کو 54 ووٹ ملے۔
لبرل پارٹی کے نئے قائد سنہ 2013 کے بعد آسٹریلیا میں چوتھے وزیراعظم ہوں گے۔مالکم ٹرن بل کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پارلیمان اپنی مدت مکمل کرے گی اور عام انتخابات نہیں ہوں گے۔
یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹونی ایبٹ کی جانب سے آسٹریلیا کے گورنر جنرل کو اطلاع دینے اور مستعفی ہونے کے فوراً بعد نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے گیا۔پیر کو لبرل پارٹی کے ارکانِ پارلیمان کی ملاقات کے دوران پارٹی رہنما کے لیے ووٹنگ کی گئی جس میں آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ جولی بشپ کو پارٹی کی ڈپٹی لیڈر برقرار رکھنے کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے۔اس انتخاب کے نتائج کے اعلان کے بعد بات کرتے ہوئے ٹرن بل نے سابقہ رہنما کے بطور وزیراعظم ’خوفناک کارناموں‘ کی تعریف کی۔نو منتخب پارٹی لیڈر نے کہا کہ ’آسٹریلیا کو ایک ایسے قائد کی ضرورت ہے جو اقتصادی نظریہ رکھتا ہو اور ایک ایسی قیادت جو درپیش چیلنجوں سے نمٹ سکے۔‘انھوں نے مزید کہا ’میں ایک ایسی لبرل حکومت کی قیادت کروں گا جو انفرادی اور اجتماعی آزادی کی ضامن ہو۔‘واضح رہے کہ ٹرن بل مستعفی ہونے اور قیادت سنبھالنے کا دعوی کرنے سے قبل ٹونی ایبٹ کے دور حکومت میں بطور وزیر اطلاعات خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ان کی جماعت میں موجود بہت سے لوگ ہم جنس شادیوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی حمایت کرنے کی وجہ سے انھیں پسند نہیں کرتے ہیں۔اس سے قبل پیر کو ہی مالکم ٹرن بل کا کہنا تھا کہ اگر ایبٹ قائد برقرار رہے تو اتحادی حکومت آئندہ انتخاب ہار جائے گی۔خیال رہے کہ اپنی مدت مکمل کرنے والے آخری آسٹریلوی وزیراعظم جان ہارورڈ تھے انھوں نے اقتدار سنہ 2007 میں چھوڑا تھا۔

مزید پڑھئے:وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…